Skip to main content

پردہ اور اس کی اہمیت 88

 


پردہ اور اس کی اہمیت 

ازقلم : نعمان عثمان 



اسلام بہترین معاشرت کے قیام کا خواہاں ہے ۔ معاشرت جس قدر بہترہو گی اسی قدر افراد کار کی تیاری میں مدد ملے گی ۔ معاشرے میں  بنیادی چیز خاندان ہے۔ خاندان کے تحفظ کے لیے اللہ تعالی نے کئی ایک احکامات دیے ہیں ، ان احکامات میں سے ایک حکم پردے کا حکم بھی ہے ۔

 وَ قَرنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى (الاحزاب : 33 ) 

’’ اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دَورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو ۔ ‘‘

 نبی (ﷺ) نے فرمایا کہ عورتوں اکیلے باہر مت نکلو اپنے محرم کے بغیر سفر مت کرو۔ جب علما ہمیں سمجھاتے ہیں کہ مرد اور عورت کا اختلاط اسلام میں جائز نہیں تو عورتیں ہی کہتی ہیں کہ یہ دیندار لوگ ابھی تک پُرانے زمانے میں جی رہے ہیں ہمیں آزادی چاہیے ہماری زندگی ہماری مرضی وغیرہ وغیرہ۔

یہ وہ باتیں ہیں جو آزاد خیال طبقہ مذہب کے متعلق کرتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورت کو برسر بازار برہنہ کیا گیا ، اسے گھر کی بجائے بازار کی زینت بنایا گیا ، مختلف مقاصد کے لیے اسے استعمال کیا گیا ، چنانچہ بنت ہوا آزادی کے جھانسے میں بھیڑیوں کے ہاتھ لگ گئی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا؟ اس کا سادہ جواب یہی ہے کہ جب اسلام کی دی ہوئی عزت قبول نہیں کریں گے تو پھر  یہی کچھ ہوگا۔

فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ(النور:63)

اسی طرح معاشرے کو بے حیائی ، فساد ، انارکی سے بچانے کامقصد بھی حجاب سے حاصل ہوتا ہے ۔  اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:

اے نبیؐ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکالیا کریں  یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں  اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے-

پردہ اسلام کا ایسا شعار ہے جس سے معاشرے میں حیاء اور اچھی اقدار جنم لیتی ہیں ۔پردے میں،چادر میں صرف ایک عورت کی نجات نہیں بلکہ ایک ملت کی نجات ہے کیونکہ بے پردہ عورت پوری قوم کو گمراہ کر دیتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...