Skip to main content

خلوت کے گناہ (تنہائی کے گناہ) 65

 

خلوت کے گناہ (تنہائی کے گناہ)

از قلم : مجیب الرحمن 



                                                                               موجودہ دور انٹرنیٹ، موبائل اور ٹیکنالوجی کا ہے۔ جہاں ایک کلک پر پورا جہان آپ کے سامنے کھل جاتا ہے۔ ان لمحوں میں ہمارے ایمان اور تنہائی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ وہ جرائم جو لوگوں کے سامنے سر انجام دیے جاتے تھے۔ اب انٹرنیٹ کی دنیا میں سرانجام دیے جا رہے ہیں۔ بظاہر ہم یہ گناہ لوگوں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اللہ رب العزت کی ذات تو دیکھ رہی ہے۔

(یستخفون من الناس)

 لوگوں سے تو چھپا لیتے ہیں

(ولا یستخفون من اللہ و ھو معھم)

"مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے کیونکہ وہ ان کے ساتھ ہے."

ہمارا لکھا اور دیکھا ہوا سب ہمارے نامہ اعمال میں محفوظ ہو رہا ھے جہاں سے اسے صرف سچی توبہ ہی مٹا سکتی ہے.

یہ سب امتحان اس لئے ہیں تاکہ

 (لیعلم اللہ من یخافه بالغیب)

 اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔

                                                                               یہ لکھنے والے ہاتھ اور پڑھنے والی آنکھیں ، سب ایک دن بول بول کر گواہی دیں گے۔

: { الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ)

 (یسن – 65)

” آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ھم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے"

                                                                                گناہ کے دوران ہمارا کوئی بیوی بچہ یہاں تک کہ بلی یا ہوا کا جھونکا بھی دروازہ ہلا دے تو ہماری پوری ہستی ہل کر رہ جاتی ھے ، کیوں ؟ رسوائی کا ڈر ، امیج خراب ہونے کا ڈر

                                                                               اس دن کیا ہو گا جب ہماری بیوی بچے اور والدین بھی سامنے دیکھ رہے ہونگے اور دوست واحباب بھی موجود ہونگے

                                                                               اس دن زمانہ دیکھ کہ اللہ تعالی ایک ایک عمل کا حساب کتاب لیں گے۔ برے اعمال کی صورت میں رسوائی اور خواری ہمارا مقدر بن جائے گی۔

                                                                               آج بھی صرف توبہ کے چند لفظ اور آئندہ سے پرہیز کا عزم ہمارے پچھلے کیے ہوئے گناہوں کو صاف کر سکتا ہے. اور ہمیں اس رسوائی سے بچا سکتا ہے.

اللہ کے رسول صلي الله عليه وآلہٖ وسلم دعا مانگا کرتے تھے کہ

(مفہوم)

 اے اللہ میرے باطن کو میرے ظاھر سے اچھا کر دے

                                                                               خلوت کے گناہ انسان کے عزم وارادے کو متزلزل کر کے رکھ دیتے ہیں. یوں ان میں خود اعتمادی اور معاملات میں شفافیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ھے.

(اِتَّقِ الله حيث ما كنت)

جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو.

اللّہ تعالٰی ہم سب کی حفاظت فرمائے.

آمِین...".

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...