Skip to main content

حرمت رسول ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں 97



حرمت رسول ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں

از قلم : سیف الرحمٰن


 



نبی ﷺ کو اللہ تعالی نے تمام انسانوں میں سے افضل اور اعلی مقام عطا کیا ہے ۔ آپ انسانیت کے لیے راہبر اور راہنما بنا کر بھیجے گئے ۔جس طرح آپ ﷺ کی بات کو ماننا ، عمل کرنا لازم ہے، اسی طر ح آپ ﷺ کی ذات کا احترام بھی لازم ہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرما دی :

                                                يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه وَاتَّقُوا اللّٰهَ  اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (الحجرات:01)

            "اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔"

            اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے نبی ﷺ کی اطاعت کے ساتھ آپ کی ذات کا احترام ، ادب اور تعظیم کو بھی لازم ٹھہرایا ہے ۔اسی طرح وہ لوگ جو مدینہ میں آتے اور آپ کو اپنے حجرے کے باہر سے آوازیں لگانا شروع کر دیتے " یا محمد" اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کو بھی منع فرما دیا ۔ جب اللہ تعالی اپنے نبی پر آوازیں کسنے کو پسند نہیں کرتا تو اپنے نبی کے خاکے اور کارٹون  بنانے کو کس طرح گوارہ کیا  جا سکتا ہے ؟

نوپور شرما کے گستاخانہ بیان ہو یا ڈنمارک اور ہالینڈ کے بنائے گستاخانہ خاکے اور کارٹون ایسا  سفلی رویہ کسی صورت بھی قبول نہیں ہے ۔آزادی اظہار رائے کے  نام پر  کسی دوسرے مذہب کی توہین کرنا سرا سر ناعاقبت اندیشی کا نتیجہ ہے ۔  

             بحثیت امت ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ  ہم حرمت نبی ﷺ کا بھر پور تحفظ کریں ۔ اس کے لیے ہمیں اپنی صلاحیتیں وقف کرنی چاہیے ۔ ایک لکھاری اپنی کتابت کے ذریعہ نبی ﷺ کی حرمت کا دفاع کرے ۔ ایک واعظ اپنے وعظ میں  لوگوں کو نبی ﷺ کی حرمت  اہمیت پر ابھارے ۔ الغرض ہماری تمام صلاحیتیں اس کام میں وقف ہونی چاہیے ، تاکہ آخرت میں نبی ﷺ کی شفاعت کے مستحق ٹھہریں ۔


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...