"خروج اور اس کی شرعی حیثیت " از قلم: راحیل قمر کافر اور مجرم حکمران کو کفر اورجرم سے روکنا عین ایمان ہے۔ حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: " أنصر أخاک ظالماً أو مظلوماً قال یارسول اللّٰه ﷺ هذا ننصره مظلوماً فکيف ننصره ظالماً قال تأخذه فوق یدیه" ﴿ الصحیح بخاری، 2443﴾ " تو اپنے بھائی کی مدد کر چاہے ظالم ہو یا مظلوم، صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ مظلوم کی مدد تو ہم کریں گے لیکن ظالم کی مدد ہم کس طرح کریں؟ آپؐ نے فرمایا: ظالم کے ہاتھ کو ظلم سے روک دو۔" حکمران کے خلاف خروج کوفتنہ و فساد قتل وغارت گری کا ذریعہ ہونےکی بنا پرممنوع قرار دیا گیا ہے اور حتی الوسع صبر کی ترغیب دی گئی ہے۔ اسی احتیاط کے پیش نظر ظالم و فاسق حکمران کے خلاف خروج کے متعلق سلف سے دو اقوال منقول ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ حکمران جب تک کفر بواح کا مرتکب نہ ہواس کے خلاف خروج جائزنہیں اور یہ رائے ان صحابہ کرامؓ کی ہے جو فتنہ کے دور (یعنی حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کے جنگ کے دوران) میں گوشہ نشین رہے مثلاً حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، عبداللہ ابن عمرؓ، اسامہ بن زیدؓ...
Alhikmah International Blogs