Skip to main content

Posts

Showing posts from February, 2022

صبر کا مفہوم اور مقام صبر 72

صبر کا مفہوم اور مقام صبر از قلم: انعام الرحمٰن                   ’’صبر‘‘ كےلغوی معنی کسی خوشی، مُصیبت، غم اور پریشانی وغیرہ کے وقت میں خود کو قابو میں رکھنا، ایسے کاموں سے رکنا   جس پر رکنے کا شریعت تقاضا کررہی ہو ۔صبر کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان نے یہ مان لیا ہے کہ جو بھی مشکل یا تکلیف آئی ہے یہ   اللہ تعالی کی طرف سے ہے ۔   اب مجھے آہ و فغاں کی بجائے چیخ و پکار کی بجائے خود کو سنبھالنا ہے ۔ کیونکہ چیخ وپکار اور جزاں فزاں کا کوئی فائدہ   نہیں ہے ۔ ایک ذات ہے جو سب کچھ سنبھالتی ہے سارے اختیارات اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرے معاملات بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور میرے ساتھ جو بھی معاملہ پیش آیا ہے نقصان کی صورت میں یا مصیبت کی صورت میں یا کسی ناپسندیدہ حالت کی صورت میں وہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے آیا ہے کیونکہ اللہ کی مرضی کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہل سکتا اسلام میں چوٹی کی چیز صبر ہے ۔ قرآن پاک میں کئی مقاما ت پر صبر کا ذکر کیا گیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّا...

سکون کی تلاش کتاب و سنت کی روشنی میں 71

  سکون کی تلاش کتاب و سنت کی روشنی میں از قلم : راحیل قمر                 موجودہ انسانی زندگی میں کرب و الم ایک لازمی چیز ہے ۔انفرادی اور اجتماعی سطح کی الجھنیں اورغم پریشانیوں کا باعث بن رہے ہیں ۔ ہم میں سے اکثر ساری زندگی اسی کشمکش میں رہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بس حل ہو جائے تو زندگی میں سکون آ جائے۔فلاں شخص ہمارے بارے میں مثبت ہو جائے تو زندگی میں سکون ہو جائے۔وہ چیز بس مجھے مل جائے تو زندگی پرسکون ہو جائے۔فلاں امتحان بس پاس ہو جائے،وہ ڈگری ،وہ عہدہ مجھے مل جائے تو زندگی کے مسئلے ختم ہو جائیں گے اور   سکون مل جائے۔ میری یہ خامی مجھ سے دور ہو جائے۔بس میری یہ دعا قبول ہو جائے ۔                 وہ سب چیزیں بھی ہمیں مل جاتیں ہیں ، مسئلے بھی حل ہوتے جاتے ہیں۔ حالات بھی بدلتے جاتے ہیں ،دعائیں بھی قبول ہوتی جاتی ہیں۔ انسانوں کے منفی رویے بھی بدل جاتے ہیں، پر پہلے مسئلے کے بعد کوئی اور مسئلہ آ جاتا ہے۔ پہلے محرومیاں دور ہونے کے بعد ک...

مدارس دینیہ اور موجودہ دور کے تقاضے 70

  مدارس دینیہ  اور موجودہ دور کے تقاضے از قلم : بدر عکاشہ                                                                                                                    مدارس دینیہ اسلام کاقلعہ ہیں ۔انفرادی اور اجتماعی زندگی کی راہنمائی ،معاشرے میں دین کی نشر و اشاعت ، فکر و عمل کی یکسوئی   اور تربیت یافتہ افراد کی تیار ی مدارس اسلامیہ کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ اسلامی شعائر کا تحفظ ، قرآن و سنت اور اسلامی ر...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...

نماز کا تصور اور فوائد 68

  نماز کا تصور اور فوائد از قلم : مجیب الرحمٰن                   نماز مسلمانوں کی تہذیب کا حصہ ہے ۔ نماز مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اصلاح  کا بہترین ذریعہ ہے ۔نماز محض نماز نہیں ہے بلکہ تربیت کا ایک جامع پلان ہے ۔نماز عبادت کے ساتھ معاشرتی فلاح و بہبود ، تنظیم سازی اور انفرادی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اہل ایمان کو  اللہ تعالی حکومت سے نوازتے ہیں تو ان کا پہلا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ نماز کا اہتمام کرواتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ                 "جن لوگوں کو ہم زمین میں غلبہ دیتے ہیں تو وہ نماز قائم کرتے ہیں "                 چنانچہ نماز کی اہمیت کے پیش نظر نبی ﷺ نے فرمایا:           ...

مسلم ممالک پر مغرب کے فکری اثرات،67

  مسلم ممالک پر مغرب کے فکری اثرات از قلم: بدر عکاشہ                                                                                انسان اپنی زندگی کسی نہ کسی عقیدہ ، نظریہ حیات اور آئیڈیالوجی کے تحت گزارتا ہے ۔شب و روز کی محنت ، عروج و زوال ، ترقی کی  نت نئی راہیں یہ سب کچھ انسان کو عقیدہ ہی فراہم کرتا ہے ۔ مسلمانوں کے لیے عقیدہ اور نظریہ حیات قرآن اور سنت ہیں ۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ "میں تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں ، جب تک انہیں تھامے ر...

راستے کے آداب و حُقوق, 66

راستے کے آداب و حُقوق از قلم: محمد حنیف اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو زندگی کے تمام پہلوؤں میں انسانیت کی راہنمائی کرتا ہے۔اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لیے حقوق وفرائض کا ایک جامع تصور اور نمونہ پیش کیا ہے۔   اس دنیا میں انسان کو کئی انفرادی اور اجتماعی حقوق کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ ان حقوق میں سے راستے کے حقوق بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ راستے کے حقوق کی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ رستےکو محفوظ و مامون بنایا جائے،ہر تکلیف دہ چیز رستے سے دور کی جائے۔ رستےکے حقوق کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ تکلیف دہ چیز کو رستےسے ہٹانا ایمان کا حصہ ہے۔ چناںچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان کے بہت سے شعبے ہیں ان میں پہلا کلمہ طیبہ یعنی لا الہٰ الاّ اللہ اورآخری راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ (بخاری ومسلم) اسلامی تعلیمات میں اخلاقی اقدار اور حقوق العباد کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے، جس سے انحراف اور نافرمانی بدترین گناہ اور عذاب کا سبب ...

خلوت کے گناہ (تنہائی کے گناہ) 65

  خلوت کے گناہ (تنہائی کے گناہ) از قلم : مجیب الرحمن                                                                                 موجودہ دور انٹرنیٹ، موبائل اور ٹیکنالوجی کا ہے۔ جہاں ایک کلک پر پورا جہان آپ کے سامنے کھل جاتا ہے۔ ان لمحوں میں ہمارے ایمان اور تنہائی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ وہ جرائم جو لوگوں کے سامنے سر انجام دیے جاتے تھے۔ اب انٹرنیٹ کی دنیا میں سرانجام دیے جا رہے ہیں۔ بظاہر ہم یہ گناہ لوگوں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اللہ رب العزت کی ذات تو دیکھ رہی ہے۔ (یستخفون من الناس)   لوگوں سے تو چھپا لیتے ہیں (ولا یستخفون من اللہ و ھو معھم) ...

اسلامی نظریہ حیات اور موجودہ علماء کرام64

  اسلامی نظریہ حیات اور موجودہ علماء کرام از قلم: حافظ معیذ احمد                                                                                      اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے   ، جو زندگی کے تمام پہلوؤ ں میں انسانیت کی راہنمائی کرتا ہے ۔نماز و روزہ سے لے کر سیاست و معیشت تک انسانی زندگی کے تمام مسائل کا حل اسلام میں موجود ہے ۔   اس نظریہ کی عملی شکل کے لیے اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ کے بعد اسی مشن کو صحابہ و تابعین اور آئمہ نے بحسن خوبی ادا کیا ۔            ...