صبر کا مفہوم اور مقام صبر از قلم: انعام الرحمٰن ’’صبر‘‘ كےلغوی معنی کسی خوشی، مُصیبت، غم اور پریشانی وغیرہ کے وقت میں خود کو قابو میں رکھنا، ایسے کاموں سے رکنا جس پر رکنے کا شریعت تقاضا کررہی ہو ۔صبر کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان نے یہ مان لیا ہے کہ جو بھی مشکل یا تکلیف آئی ہے یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے ۔ اب مجھے آہ و فغاں کی بجائے چیخ و پکار کی بجائے خود کو سنبھالنا ہے ۔ کیونکہ چیخ وپکار اور جزاں فزاں کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ ایک ذات ہے جو سب کچھ سنبھالتی ہے سارے اختیارات اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرے معاملات بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور میرے ساتھ جو بھی معاملہ پیش آیا ہے نقصان کی صورت میں یا مصیبت کی صورت میں یا کسی ناپسندیدہ حالت کی صورت میں وہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے آیا ہے کیونکہ اللہ کی مرضی کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہل سکتا اسلام میں چوٹی کی چیز صبر ہے ۔ قرآن پاک میں کئی مقاما ت پر صبر کا ذکر کیا گیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّا...
Alhikmah International Blogs