تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔ تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...
Alhikmah International Blogs