تہذیب اور تمدن میں فرق
از قلم : سیف الرحمٰن
تہذیب
اور تمدن دو مختلف معنی رکھنے والے الفاظ ہیں جب کہ اکثر ہمارا پڑھا لکھا طبقہ انہیں
ایک ہی معنی میں استعمال کرتا ہے ، جس سے کئی ایک خرابیاں اور مفاسد جنم لیتے ہیں
۔ تہذیب انسانی رویوں کی بہتری
،اصلاح اور زندگی گزارنے کے طریقوں کا نام
ہے ، جیسے کسی سے ملتے وقت "السلام علیکم " کہنا ، شائستگی سے گفتگو
کرنا ، کوئی دوسرا ہمارے ساتھ اچھا سلوک
کرے تو اس کا شکریہ ادا کرنا و غیرہ ۔ جب یہی رویے پختہ ہو جائیں اور انسان غیر
ارادی طور پر ان پہ عمل کا اظہار شروع کر
دے تو یہ "ثقافت" بن جاتے ہیں۔
جب
کہ تمدن " مدن " سے ہے جس کے معنی مادی ترقی ہے ۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی ایجادات تمدن ہی ہیں ۔ اس بات کو ذہن نشین کر لیا جائے کہ مادی
ترقی اور ایجادات تمدن ہے لیکن ان کو
استعمال کیسے کرنا ہے ؟ یہ تہذیب کا مسئلہ ہے ۔
مثال کے طور پہ" بندوق
"اپنی ذات کے اعتبار سے تو تمدن ہے لیکن بندوق کو استعمال کیسے کرنا ہے ؟ یہ تہذیب کا مسئلہ ہے ۔ "قلم "
اپنی ذات کے اعتبار سے تمدن ہے لیکن اس سے
اسلام لکھیں یا الحاد یہ تہذیب کا مسئلہ ہے ، اسی
طرح " بلڈنگ کا تعمیر ہونا " تمدن ہے ،لیکن اس بلڈنگ میں مسجد
بنے گی یا سینماء یہ تہذیب کا مسئلہ ہے ۔ "شوارما " تمدن ہے ، لیکن
شوارما دائیں ہاتھ سے کھائیں یہ تہذیب ہے ۔
سطور
بالا میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ تہذیب
اور تمدن دو مختلف معنی رکھنے والے الفاظ
ہیں ۔ اگر ہم انہیں ایک ہی معنی میں استعمال کریں گے تو تصادم اور اختلاط جنم لے
گا ۔ جو لوگ تہذیب اور تمدن کو ایک معنی
میں استعمال کرتے ہیں وہ مغرب کی سائنسی ٹیکنالوجی اور ایجادات سے متاثر ہو کر ان کی تہذیب اپنانے
کے قائل ہیں ، جب کہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں تہذیب اور تمدن میں فرق ہی سمجھ نہیں
آیا ۔
ہم
تہذیب اور تمدن کی اس تعریف کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا
تمدن اختیار کرنا کوئی ضروری نہیں ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دور تمدن کے
اعتبار سے آج کے دور کے مقابلے میں ترقی یافتہ دور نہیں تھا ۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ دو مختلف تہذیبوں میں زندگی گزارنے والے لوگ تمدن میں مشترک ہو سکتے ہیں ، اس بنا پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اسلامی تہذیب اور اصولوں پر چلتے ہوئے مغرب سے "تمدن " لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں سمجھنے اور عمل کی توفیق دے ،
آمین ۔
Comments
Post a Comment