Skip to main content

معاشرتی اصلاح میں خاندان کا کردار 87


معاشرتی اصلاح میں خاندان کا کردار

تحریر:

      اویس الرحمن ریسرچ سکالر الحکمۃ انٹرنیشنل 



خاندان انسانی معاشرت کا پہلا اور بنیادی ادارہ ہے۔ اس لئے اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خاندان کی بنیاد ایک مرد اور عورت کی باہمی رفاقت سے وجود میں آتی ہے۔ ان دونوں سے مل کر بننے والا چھوٹا سا اجتماعی دائرہ انسانی تہذیب کی سب سے پہلی کڑی ہے۔ دین اسلام میں مرد اور عورت کی یہ مستقل رفاقت ایک کھلے مستحکم معاہدے (نکاح)  کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔یہ نکاح ایک ایسا با حرمت رشتہ ہے جو دونوں کی مرضی اور پورے اعلان کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ نکاح کے بغیر مرد اور عورت کا تعلق بدترین گناہ اور ایک ایسا جرم ہے جس کی سخت  سزا مقرر ہے۔ نکاح کے ذریعے دونوں (مرد عورت) اپنے اوپر بھاری ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے ان کے پابند ہو جاتے ہیں۔ اس رشتے کی وجہ سے ایک چھوٹی سی وحدت بنتی ہے۔ مرد اس کا نگران اور ناظم اعلی ہوتا ہے۔

القرآن -

(اٙلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ) سورة النساء: 34

مرد عورتوں پر نگران ہیں۔

اس حیثیت سے وہ اپنے اہل و عیال کی دنیاوی ضرورتوں اور اخروی فلاح دونوں کا خیال رکھنے والا اور اللہ کے ہاں اس کا جوابدہ ہے۔ بیوی اس کے ماتحت گھر کا اندرونی نظم و نسق چلاتی ہے۔ بیوی کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھر کے نظم و نسق چلانے کے  ساتھ شوہر کی حقیقی رفاقت اور اپنی عفت کو پوری طرح محفوظ رکھے۔

عورت اور مرد کے اس ملاپ سے ایک نئی نسل وجود میں آتی ہے۔ اس سے رشتے، کنبے اور برادری کے دوسرے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ بالآخر یہی رشتہ پھیلتے پھیلتے ایک معاشرے تک جا پہنچتے ہیں۔

 خاندان ہی وہ ادارہ ہے جس میں ایک نسل اپنے بعد آنے والی نسل کو انسانی تہذیب کی وسیع خدمات سنبھالنے کے لیے محبت، ایثار، دل سوزی اور خیر خواہی کے ساتھ تیار کرتی ہے۔ گویا کہ یہ ادرہ ایک ایسی تربیت گاہ جہاں سے اسلام اچھے انسان تیار کرنا چاہتا ہے، اخلاق حسنہ کی ابتدائی تربیت اسی مقام پر دیتا ہے۔ تاکہ شروع سے ہی بچے میں اسلام کا احترام پیدا ہو اور اس کی سیرت اسلامی سانچے میں ڈھل جائے۔

 

 


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...