Skip to main content

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

 

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات

از قلم:
                                                                                                                                                                                                                                                                                                         حافظ ذکوان ریسرچ سکالر الحکمۃ انٹرنیشنل 



 

عورت پر گھریلو امور کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری تین پہلو رکھتی ہے۔

1)بچوں کی پیدائش ، پرورش و تربیت

2)گھریلو امور کی انجام دہی

3)شوہر کو سکون مہیا کرنا۔

ان تین ذمہ داریوں کے ساتھ جب عورت نے چوتھی ذمہ  داری ملازمت کی بھی ڈال لی ۔تو نہ صرف پہلی تین ذمہ  داریاں نظر انداز ہوئیں بلکہ اس کی ذات بھی پِس کر رہ گئی ۔اس کی حالت اُس عورت جیسی ہو گئی جو پہاڑ کی بلندی سے نیچے اتر رہی ہواور پانی کے بھرے ہوئے گھڑے دونوں بغلوں میں تھام رکھے ہوں اور ایک سر پر اٹھا رکھا ہو۔

اس افسوس ناک صورت حال کو بیان کرتے ہوئے نعیم صدیقی اپنی کتاب” عورت معرض کشمکش میں“ رقم طراز ہیں:

”عورت کو صنعت میں لانے کا قدرتی نتیجہ گھریلو زندگی کی تباہی ہے۔تھوڑا تھوڑا کر کے اس کا پرانا مشغلہ اس سے چُرا لیا گیا اور اب " گھر " دلچسپی سے خالی ہو کر رہ گیا ہے اور خود عورت بے مقصدی اور بےاطمینانی کی حالت میں مبتلا ہے۔ گھر جب اس طرح خالی ہو گیا ہے کہ نہ اس میں کرنے کا کوئی کام کیا جاتا ہو اور نہ ہی اس میں زندگی بستی ہو تو اس کے سوا اور کیا ہوتا ہےکہ مردوں اور عورتوں نے اس سے کنارہ کشی کر لی ۔ اس طرح جو ادارہ دس ہزار سال سے برقرار تھا، ایک ہی نسل میں تباہ ہو گیا۔“

عورت کی ملازمت نے خاندانی نظام  کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی  عورت اپنے اصل فرائض سے غافل ہو گئی۔ اس ملازمت کی وجہ سے گھر اور عورت میں وہ خلا پیدا ہوا جس سے معاشرے کو سنگین نتائج بگتنے پڑ رہے ہیں۔

ملازمت کی وجہ سےخاندان اور معاشرے کو نقصانات:

(1)      عورت کی ا صل ذمہ داریوں  میں خطا

(2)      بچوں کی تربیت میں حرج

(3)      گھریلو  معاملا ت میں عدم دلچسپی

(4)      خاوند کے حق میں  کوتاہی

(5)      مرد و زن کا اختلاط

(6)      خود کفیل، خاوند  کی مادی ذمہ داری ختم

(7)      خاوند  کی بیوی کے تحفظ سے براءت

(8)      والدین کے حقوق میں کوتاہی

مغرب میں عورت کی ملازمت  کی وجہ سے مادی فائدہ تو ضرور ہوا لیکن اس نے خاندان کے نظام کے  چولہیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ عورت کی ملازمت کی وجہ سے خاندنی نظام  بری طرح متاثر  ہواہے ۔پہلے یہ صرف یورپ میں تھا لیکن بدقسمتی سےیہ  اب مسلم ممالک میں زور پکڑ رہا ہے۔

شریعت کی تعلیمات کے مطابق مرد و عورت کو اس طرح زندگی گزارنی چاہئے کہ گھر کے باہر کی دوڑ دھوپ مرد کے ذمہ رہے۔اسی لئے بیوی اور بچوں کے تمام جائز اخراجات مرد کے اوپر فرض کئے گئے ہیں، شریعت اسلامیہ نے صنف نازک پر کوئی خرچہ لازم نہیں قرار دیا، شادی سے قبل اس کے تمام اخراجات باپ کے ذمہ اور شادی کے بعد رہائش، کپڑے، کھانے اور ضروریات وغیرہ کے تمام مصارف شوہر کے ذمہ رکھے ہیں۔ عورتوں سے کہا گیا کہ وہ گھر کی ملکہ ہیں۔ (صحیح بخاری ) لہٰذا ان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز گھر کو بنانا چاہئے 

جیسا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
 وَقَرْنَ فِی بُيوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهلية الْاُوْلٰی (سورۃ الاحزاب ۳۳)۔
 مرد و عورت کی ذمہ داری کی یہ تقسیم نہ صرف اسلام کا مزاج ہے بلکہ یہ ایک فطری اور متوازن نظام ہے جو مردو عورت دونوں کے لئے سکون وراحت کا باعث ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...