Skip to main content

اس بار کے خطبہ جمعہ کا عنوان ہے: تعلیم میں میڈیا کا کردار



:اس بار کے خطبہ جمعہ کا عنوان ہے


تعلیم میں میڈیا کا کردار


خطبہ کے مشمولات


۔۔۔۔ تعلیم کی اہمیت وضرورت  

.۔۔۔۔۔۔ بچوں کی دینی تعلیم وتربیت  

..۔۔۔۔۔۔  میڈیا کا مثبت استعمال اور بچوں کی تعلیم وتربیت کے اصول 

..۔۔۔۔۔۔ آن لائن تعلیم اور میڈیا  

..۔۔۔۔۔۔  اسلامی مدارس میں میڈیا کے ذریعے تعلیم کا رجحان 

..۔۔۔۔۔۔   دینی تعلیم اور اہل علم کو درپیش چیلنجز؛ آراء وتجاویز 


آپ احباب خود بھی مطالعہ فرمائیں اور آگے شیئر بھی کریں.


جزاكم الله خيرا


الحکمة انٹرنیشنل

ــــــــــ لاہور ـــــــ


ہر جمعے کا مستند تحریری خطبہ حاصل کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کر کے منبر الحكمة گروپ56 جوائن کیجیے        

https://chat.whatsapp.com/ICT1z04LQ0E2hvOJSilHCf

https://tii.ai/Uuk9cU


! گرامی قدر اہل فکرودانش 

لوگوں کے سوشل میڈیا کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان اور واٹس ایپ گروپس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر، ہم نے فیس بک، یوٹیوب وغیرہ کے ساتھ جدید فورٹیلی گرام میں بھی آپ اہل علم کی خدمت کےلیے ایک چینل بنایا ہے. 


الحکمہ انٹرنیشنل

 کے تمام ممبران اور محبین سے گزارش ہے کہ ہمارے علمی وتحقيقی خطبات، کتب، بروشر،علمی وفکری ورکشاپس ،یومیہ اسلامی پوسٹیں، مذہبی اسکالرز حضرات کی علمی فکری وتربیتی وڈیوز اور دروس،

 حاصل کرنے کے لیے ٹیلی گرام پر ہمارا چینل سبسکرائب کیجئے 


منجانب :


الحکمہ انٹرنیشنل

 لاہور، پاکستان


https://t.me/joinchat/Si7SvyHROicJRI9W

 https://tii.ai/So1z
























Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...