Skip to main content

"قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق" 1

 


"قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق"




"قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق"


از قلم: سیف الر حمان 

قسط نمبر: 1

 Defination : قانون وضعی  

قانون وضعی سے مراد ایسے قوانین ہیں جو نظام زندگی کو چلانے کے لیے انسانوں نے بذات خود بنائے ہیںـ جیسا کہ سیکولرزم ،کیمونزم اورکیپٹلزم وغیرہ

  Defination : قانون تشریعی

قانون تشریعی سے مراد وہ قوانین ہیں جو نظام زندگی کو چلانے کے لیے اللہ رب العزت نے اپنے رسولوں کے ذریعے اپنے بندوں تک بھیجے ہیں جن کی بنیاد وحی پر ہےـ

موجودہ دور میں دونوں طرز ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ باہم شدید متنازع کا شکار ہیں کہ موجودہ دور میں کس طرز ہائے فکر کو نظام زندگی کے طور پر اپنایا جائےـ ذیل میں میں دونوں نظاموں کے درمیان چند ایک فروق واضح کروں گا جن سے قارئیں کو دونوں میں درست نظام تک پہنچنے میں مدد ملے گی 

قانون وضعی اور قانون تشریعی کا مطالعہ کیا جائے تو دونوں کے درمیان چند ایک فروق ہمیں واضح طور پر دیکھنے کو ملتے   ہیں

: جو کہ درج ذیل ہیں

:1 

قانون وضعی کو تشکیل دینے والے انسان ہیں ۔ انسان مخلوق ہیں جو کہ بذات خود خطا کا پتلا ہے۔  انسان کی شخصیت میں لالچ‘ ہوس‘ غرور اور تکبر بھی ہے نا اہلی اور کمتری پائی جاتی ہے ۔ بعض دفعہ انسان دوسروں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے قتل و غارت تک جا پہنچتا ہے اس کے علاوہ امیر و غریب جیسی طبقاتی کشمکش سمیت رنگ و نسل‘ علاقائی اور لسانیت کے امتیاز میں کسی سے کم نہیں ہے کیا ان تمام خامیوں میں لپٹا ہوا انسان اس بات کا اہل ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے قانون وضع کر سکے۔ 

جب کے دوسری طرف دیکھا جائے تو قانون تشریعی کو بنانے والی ذات اللہ رب العزت کی ہے جو ارحم الراحمین ہے وہ ذات حقوق کی فراہمی میں رنگ و نسل علاقائی اور لسانی کشمکش کو نہیں دیکھتا اس کے نزدیک صرف ایک خاص نظریے کو ماننا دنیا و آخرت کی سب سے بڑی کامیابی ہے 

  : 2

وضعی قانون نظریاتی حیثیت سے عالمگیر ہے اور نا ہی تاریخی حیثیت سے عالمگیر ہے ، اگر موجودہ دور میں دنیا کے ممالک کو دیکھا جائے تو جن جن ممالک میں قانون وضعی کو اپنایا گیا ہے تمام ایک دوسرے سے مختلف ہیں چائنہ روس امریکہ برطانیہ وضعی قوانین کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں

جب کہ دوسری طرف دیکھا جائے تو تشریعی قانون نظریاتی اور تاریخی دونوں اعتبار سے عالمگیر ہے تشریعی قوانین میں اسلام کو دیکھا جائے تو 1200سالہ دور اقتدار میں جہاں جہاں اسلامی حکومت رہی ہے تمام علاقوں کے لیے ایک ہی نظام رہا یہ نظام فرد اور معاشرہ دونوں کو اہمیت دیتا تھا۔ 

﴿جاری ہے﴾

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...