Skip to main content

ہمارے معاشرتی اور اخلاقی رویے;


  :ہمارے معاشرتی اور اخلاقی رویے

    :  از قلم 
 (استاذ عبد الحنان کیلانی)


   


جب انسان کسی شخصیت, گروہ اور جماعت کو حق کا معیار بنالے تو اسے تعصب کہتے ہیں۔

         ی           یہ ایک ایسا جذبہ ہے جب انسان اس کا شکار ہو جائے تو وہ حق اور حقیقت دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ہمارا   رویہ یہ ہے کہ ہم اپنی پارٹی, جماعت اور مسلک کو ہی بس حق اور سچ سمجھتے ہیں۔  مذہبی, سیاسی اور سیکولر سمیت کوئی طبقہ اس سے مستثنی نہیں۔ 

ا             اس کے برعکس اسلام اسے جاہلانہ رویہ قرار دیتا ہے۔ اہل عرب کی سوچ تھی کہ ہرحال میں اپنے قبیلے کی مدد کرنی چاہیے۔ اسلام نے کہا بس اس وقت معاونت کرو جب وہ مظلوم ہوں۔ لیکن جب ظالم ہو تو انہیں ظلم سے روکو۔ قرآن متقین کے لیے ہدات ہے۔ یعنی جو بغیر کسی تعصب کے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لیے ہدایت ہے۔

ہ             ہمیں ہر حال میں حق اور سچ کا سا تھ دینا چاہیے۔ اگر ایک اچھی بات کسی فاحشہ سے بھی ملے تو لے لو اور بری بات کسی میمبر سے بھی ملے تو چھوڑ دو۔  اگر آپ پی ٹی آئی کے ورکر ہیں مگر نون لیگ کی کوئی اچھی بات سامنے آئے تو اسے خندہ پیشانی سے قبول کریں۔ اور اگر آپ نون لیگ کے ورکر ہیں مگر پی ٹی آئی کی کوئی خوبی سامنے تو اسے تسلیم کریں۔ اگر آپ اہل حدیث ہیں مگر بریلی کی کوئی خوبی ہو مانیں اور اگر بریلی ہیں تو اہل حدیث کا کوئی اچھا پہلو آئے تو اقرار کریں۔

مجازی تقسیمات :      ا           

  ا                 اسی طرح اہل تشیع اور دیوبند کو بھی آپس میں رویہ اپنانا چاہیے۔ اہل حدیث, بریلی, شیعہ, دیوبند, پی ٹی آئی, نون لیگ, پیپلز       پارٹی, جماعت اسلامی اور دیگر سب ذیلی تقسیمات کو محض اعتباری اور مجازی سمجھیں۔ ان کے تعصب کا شکار نہ ہوں۔ دوسروں کے بارے میں کشادہ دلی پیدا کریں۔

 (استاذ عبد الحنان کیلانی)

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...