Skip to main content

''قانون وضعی اور تشریعی میں فرق'' Part 2 .1


''قانون وضعی اور تشریعی میں فرق''

قسط نمبر :2




از قلم : سیف الر حمان

: 3 

قانون وضعی کا موجد انسان ہے ،جسکی وجہ سے قانون وضعی کی بنیاد عقل پر ہے۔عقلوں میں تفاوت برحق ہے تو پھر عقل کوق کسی نظام کی بنیاد کیسے ٹھرایا جا سکتا ہے ؟ دنیا میں بسنے والے تقریبا چھ ارب انسان ہیں ان سب کی عقل ااور سوچنے کا انداز ایک دوسرے سے مختلف ہے تو پھر ایک انسان کی عقل کا بنایا ہوا قانون دوسرے انسان کے لیے کسطرح نجات دہندہ ہو سکتا ہے ؟صرف اتنے انسانوں میں سے ایک یا چند انسانوں کو کس بنیاد پر قانون سازی کا اختیار دیا گیا ہے؟؟؟

جب کہ دوسری طرف قانون کی بنیاد وحی ہے جس میں انساں کا اپنی طاقت کا کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ ذات انسان کے مزاج اور مجبوریوں کو سمجھتے ہوے ایسا قانون پیش کرتی ہے جس میں کسی انسان پر ظلم نہیں ہوتا اور وہ ذات انسان کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتی۔ فرد اور معاشرے کے مصالح اور فوائد تشریعی قانون میں میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب اللہ نے بندوں کے تمام مصالح اپنےقانون میں رکھ دیئے ہیں  تو کیا ضرورت ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کے قانون کو اپنے لیے نظریہ حیات کے طور پہ اختیار کرے ۔  

 : 4

 قانون وضعی میں خیر کی بنیاد پیسہ مال و دولت یا دوسرے الفاظ میں مادیت پر ہے ،جس کے نتیجے میں انسان مال حاصل کرنے کے لیے معاشرے میں حسد چوری ڈکیتی ظلم و جبر اور تشدد کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پیسہ مال و دولت حاصل کرنے کا ہر حلال و حرام طریقہ اختیار  کرے گا کیوں کہ وہ جتنا پیسہ ذیادہ جمع کرے گا اتنی ہی ذیادہ خیر اس میں پائی جائے گی۔ اگر قانون کی بنیاد عقل کو تسلیم کر لیا جائے۔ اسی کے نتیجے میں یہاں بل گیٹس اور دوسرے تیسرے افراد کو دنیا کا بہترین فرد تسلیم کیا جاتا ہے۔

جب کہ دوسری طرف قانون تشریعی میں خیر اور شر کا معیارتعلق باللہ پہ ہے ۔  جسکا تعلق اللہ سے جتنا ذیادہ ہو گا وہ اتنا ہی بہتر اور خیر پر  ہے اگرچہ اس کے پاس مال و دولت نہ بھی ہو۔ جس کے نتیجے میں اس نظام کے بہترین افراد ابو بکر و عمر  جیسے ہیں ۔ اس قانون میں ظلم ، حسد اور جبر کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ یہ نظام پر امن بقائے باہمی کا سب سے ذیادہ حامی اور مظہر ہے۔

{جاری ہے}

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...