از قلم : سیف الر حمان
: 3
قانون وضعی کا موجد انسان ہے ،جسکی وجہ سے قانون وضعی کی بنیاد عقل پر ہے۔عقلوں میں تفاوت برحق ہے تو پھر عقل کوق کسی نظام کی بنیاد کیسے ٹھرایا جا سکتا ہے ؟ دنیا میں بسنے والے تقریبا چھ ارب انسان ہیں ان سب کی عقل ااور سوچنے کا انداز ایک دوسرے سے مختلف ہے تو پھر ایک انسان کی عقل کا بنایا ہوا قانون دوسرے انسان کے لیے کسطرح نجات دہندہ ہو سکتا ہے ؟صرف اتنے انسانوں میں سے ایک یا چند انسانوں کو کس بنیاد پر قانون سازی کا اختیار دیا گیا ہے؟؟؟
جب کہ دوسری طرف قانون کی بنیاد وحی ہے جس میں انساں کا اپنی طاقت کا کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ ذات انسان کے مزاج اور مجبوریوں کو سمجھتے ہوے ایسا قانون پیش کرتی ہے جس میں کسی انسان پر ظلم نہیں ہوتا اور وہ ذات انسان کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتی۔ فرد اور معاشرے کے مصالح اور فوائد تشریعی قانون میں میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب اللہ نے بندوں کے تمام مصالح اپنےقانون میں رکھ دیئے ہیں تو کیا ضرورت ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کے قانون کو اپنے لیے نظریہ حیات کے طور پہ اختیار کرے ۔
: 4
قانون وضعی میں خیر کی بنیاد پیسہ مال و دولت یا دوسرے الفاظ میں مادیت پر ہے ،جس کے نتیجے میں انسان مال حاصل کرنے کے لیے معاشرے میں حسد چوری ڈکیتی ظلم و جبر اور تشدد کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پیسہ مال و دولت حاصل کرنے کا ہر حلال و حرام طریقہ اختیار کرے گا کیوں کہ وہ جتنا پیسہ ذیادہ جمع کرے گا اتنی ہی ذیادہ خیر اس میں پائی جائے گی۔ اگر قانون کی بنیاد عقل کو تسلیم کر لیا جائے۔ اسی کے نتیجے میں یہاں بل گیٹس اور دوسرے تیسرے افراد کو دنیا کا بہترین فرد تسلیم کیا جاتا ہے۔
جب کہ دوسری طرف قانون تشریعی میں خیر اور شر کا معیارتعلق باللہ پہ ہے ۔ جسکا تعلق اللہ سے جتنا ذیادہ ہو گا وہ اتنا ہی بہتر اور خیر پر ہے اگرچہ اس کے پاس مال و دولت نہ بھی ہو۔ جس کے نتیجے میں اس نظام کے بہترین افراد ابو بکر و عمر جیسے ہیں ۔ اس قانون میں ظلم ، حسد اور جبر کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ یہ نظام پر امن بقائے باہمی کا سب سے ذیادہ حامی اور مظہر ہے۔
{جاری ہے}
Comments
Post a Comment