تعصب اور انتہا پسندی
ہ ہرانسان کا یہ حق ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر اپنی سوچ اور نظریہ کو درست سمجھے۔ اور دلائل کی بنیاد پر دوسرے کے نظریات سے اتفاق نہ کرے۔ اور اگر کوئی انسان اپنے نظریات کو بغیر کسی معقول دلیل کے درست سمجھتا ہے۔ تو یہ تعصب ہے۔ یعنی اپنی پارٹی, جماعت, مسلک, مفادات, برادری یا کسی شخصیت کی وجہ سے کسی رائے کو درست تسلیم کرنا تعصب ہے۔ اور جب یہ تعصب عملی تشدد کا راستہ اختیار کر جائے تو یہ انتہا پسندی ہے۔
انتہا پسندی کا تعلق کسی مذہب سے نہیں بلکہ اس کی جڑیں انسانی نفسیات میں ہیں۔ یہ ایک مخصوص رویے کا نام ہے, جو عدم برداشت سے پیدا ہوتا ہے, جس میں انسان اپنے نظریات سے مخالفت کرنے والے سے اتنی نفرت کرتا ہے کہ اسے مار دینا چاہتا ہے۔
اسلام انتہا پسندی سے سختی سے روکتا ہے۔ کافروں کے معبودوں کو گالی نہ دو۔ ذمیوں سے حسن سلوک سے پیش آنے کی تلقین۔ اسلامی ریاست میں تمام طبقات کو مذہبی آذادی اور حکمت و دنائی کو مومن کی گمشدہ میراث قرار دینا وغیرہ, یہ سب اسلام کی انتہا پسندی کے منافی تعلیمات ہیں۔حتی کہ اسلام میں جہاد و قتال کی تعلیم بھی انتہا پسندی ختم کرنے کے لیے دی گئی ہے۔یعنی جو لوگ معاشرے میں پرامن ماحول نہیں بننے دے رہے انہیں روکنے کے لیے قتال کیا جائے۔
ہمارے معاشرے کے سیاسی و مذہبی حریف ایک دوسرے کو برداشت کرنے کےلیے تیار نہیں۔ کوئی اپنے مخالف کا نقطہ نظر سننے اور سمجھنے کے لیے آمادہ نہیں۔ اپنے نظریاتی, سیاسی اور مذہبی حریف کو شکست دینے کے لیے اخلاقیات, روایات اور مذہبی تعلیمات سمیت کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں۔ اس کے لیے ہرطرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ ہر طرح کا تشدد روا رکھا جاتا ہے۔ اپنے اختیارات کا بے دریغ استعمال سب جائز سمجھا جاتا ہے۔
اگر ہم نے قومی و ملی حیثیت سے اپنے اس رویے کی اصلاح نہ کی تو ہمارا مستقبل بڑا بھیانک اور خوف ناک ہے۔ اس معاشرے کا بعض حصہ بعض کو کھا تا جائے گا۔ ترقی کے امکانات ختم ہوجائں گے۔ چناچہ ایک تابناک اور روشن مستقبل کے لیے ہمیں اپنے اندر برداشت پیدا کرنا ہوگا۔ دلائل کی بنیاد پر نظریاتی اختلاف سب کا حق ہے۔ ہر ایک کو سنا اور سمجھا جائے۔ جو درست لگے اسے اپنا لیا جائے۔ جو غلط لگے اس کے ساتھ پروقار طریقے سے مکالمہ کیا جائے۔ کسی پر زبردستی اپنی رائے نہ ٹھونسی جائے۔ جو دلائل کی بنیاد بات نہ کرے اسے نظر انداز کردیا جائے۔ قرآن کہتا ہے اہل ایمان جب جاہلوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو سلام کرکے گزر جاتے ہیں۔
(استاذ عبد الحنان کیلانی)
Comments
Post a Comment