فقہ الاذکار
اذکار سے بھر پور فوائد کیسےحاصل کیے جائیں؟
قاری شفیق الرحمان زاہد حفظہ اللہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا
كَثِيرًا (41) وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا[1]
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (190)
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ
وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ
هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191) [2]
ناظرین
آج سے ہم فقہ الاذکار کا ایک سلسلہ شروع کرنے جا رہے ہیں ۔ اللہ کا ذکر کرنا بہت
اہمیت کا حامل عمل ہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کثرت سے ذکر کرنے کا کہا ہے ۔
آپ قرآن مجید میں اللہ کی اس آیت پہ غور کریں تو کثرت سے ذکر کرنے کا کہا گیا ہے ۔
يَا
أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا[3]
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا ذکر کرو ، مراد اللہ
کو یاد رکھو۔ ذکر کرنے سے مراد اللہ ہمیشہ یاد رہے ۔ ہمارے ہاں ذکر سے مراد خالی الفاظ کا پڑھنا ہے
۔ وہ بھی بہت اچھا ہے لیکن ذکر کا اصل مقصود یہ ہے کہ اللہ کی ذات آپ کو یاد رہے ۔
"اذکروا الله" سب مل کر اللہ
کا ذکر کرو ۔مل کر ذکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اکیلا ایک فر د ہی ذکر نہ کرے بلکہ اس
کا گھر اس کا معاشرہ سب ذکر کریں جس سے ذکر کی ایک فضاء ہموار ہو سکے۔
اللہ کا ذکر کریں اور شعور سے کریں ۔
ہمارے ہاں عادت یہ ہے کہ اذکار کرنے کی عادت نہیں ہے خصوصا صبح وشام کے اذکار ،سونے
کے اذکار ، نماز کے بعد مسنون اذکار یہ تو
بہت اہم ہیں۔ اتنا آپ کے لیے روٹی اور کھانا پینا ضروری نہیں ہے جتنا ذکر ضروری ہے
۔ جو آدمی رات کو ذکر کیے ہوئے بغیر سو جاتا ہے گویا کہ اس نے اپنے آپ کو شطر بے
مہار چھوڑ دیا ہے ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اگر ایک ریوڑ سے ایک بکری علیحدہ ہو
جائے تو جو درندہ بھی چاہے گا اس سے چیز پھاڑ کر سکے گا۔ بغیر ذکر کے سونے کا مطلب
یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آگ کے انگاروں پہ لٹا دے ۔ عقل والے لوگوں کی دو صفات ہیں:
پہلا وصف : الَّذِينَ
يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ
وہ کھڑے ہو کر، بیٹھ
کر، لیٹ کر بھی اللہ کو یاد رکھتے ہیں۔
دوسرا وصف : وَيَتَفَكَّرُونَ
فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
شریعت کے اصولوں کی روشنی میں کائنات پہ تفکر
اور تدبر کرتے ہیں۔
اگلی بات یہ ہےکہ ذکر کیا ہے؟ ذکر کے
فوائد کیاہیں؟ ایک جملے میں ذکر کی تعریف اس طرح ہو گی کہ ذکر وہ ہے جو رسول
کائنات کی زبان پہ جاری ہوا ہے ، آپ نے
سنا ہے ، خاموشی اختیار کی ہے یا اس کی
تائید کی ہے ۔ جو ذکر رسول کائنات صلی اللہ
علیہ وسلم کی زبان پہ جاری نہیں ہوا وہ ذکر نہیں ہے ۔ "یاالله " ، " یا ودود " یا ان کے
علاوہ کئی ایسے الفاظ رائج ہیں ۔ جن کو لاکھوں بار پڑہا جاتا ہے لیکن بعد
میں پتہ چلتا ہے کہ چلا ہو گیا ہے ۔ میں اور آپ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے
ذیا دہ صاحب علم اور صاحب عقل نہیں ہیں۔
اللہ تعالی کو جن الفاظ میں ،جس انداز سے اور
جتنا پیغمبروں نے یاد کیا ہے اس سے بہتر الفاظ ، انداز اور ان سے ذیادہ کوئی بھی
نہیں یاد کر سکتا۔ ذکر کے جو الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں اس سے
جامع اور بلیغ الفاظ میں اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔ لہذا ذکر بھی کرو نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق اور آپ
کے الفاظ کے مطابق کرو ۔ اسے کہتے ہیں مسنون اذکار ۔ یہ چیز آپکےلیے دل کی راحت
سکون اور اللہ کی یاد بن جائے گا۔
ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارے ہاں
ذکر مفاد کے طور پہ کیا جاتا ہے ۔ اس بات
کو بھی کسی حد تک اچھا سمجھا جا سکتا ہے لیکن ذکر اللہ کی قربت ،محبت اور ہدایت حاصل کرنے کے
لیے کرنا چاہیے ۔ ہمارے ہاں عام طور پہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جس ذکر میں ذیادہ
دنیاوی فوائد نظر آتے ہیں ، جیسے رزق کی برکت ، کسی چیز کے نقصان سے بچاو کا وظیفہ
وغیرہ ان میں انسانی فطرت ذیادہ مائل ہو
جاتی ہے اور ذیادہ انہی وظائف پہ فوکس کیا جاتا ہے ۔ جس ذکر میں خالص اللہ کی
تسبیح و تمہید ، محبت ، تہلیلات و غیرہ
ہوں تو اس کی طرف عام طور پہ توجہ نہیں
جاتی ۔ تو ہم آپ کو جو میسج دے رہے ہیں
ذکر کرو ، مسنون کرو ، مکمل شعور
اور سمجھ سے کرو تاکہ ذکر آپ کو خالق کائنات سے جوڑ دے ۔
جو ذکر آپ کو اللہ تعالی کے قریب نہ
کرے ، آپ کے دل میں خالق کائنات کی محبت میں اضافہ نہ کرے وہ ذکر کیا ہے اس کے
متعلق آپ اپنے آپ سے ہی پوچھ سکتے ہیں ۔ لہذا ذکر کثرت اور مکمل شعور سے کرنے کی
کوشش کرو ۔ ایسا کرنے سے آپ اپنی ذات ، گھر ، بیوی بچوں ،پرو س اور معاشرے میں خیر و برکات باقاعدہ فیزیکلی اعتبار سے اور دینی و دنیاوی اعتبار سے محسوس کریں گے ۔ اس
سے آپ کو اللہ تعالی کی محبت قربت اور لذت محسوس ہو گی ۔ اسی طریقہ پہ خود بھی ذکر
کریں اور دوسروں کو اس کی ترغیب بھی دیں ۔
Comments
Post a Comment