’سلفی‘ کی
پہچان اور مفہوم
فہم
شرع کا ضابطہ:
یہ
بات تو بلاشبہ مبنی برحقیقت ہےکہ دین
اسلام کے بنیادی ترین مصادر قرآن و حدیث ہی ہیں۔ وہ سب کچھ اسلام ہے جو ان میں
موجود ہے۔ اور جو چیز ان میں موجود نہیں وہ اسلام نہیں۔ باقی جتنے بھی مصادر شریعت ہیں جیسے اجماع
و قیاس وغیرہ ہیں یہ سب ان کے ماتحت ہیں۔ کسی انسان کو اگر کسی بھی معاملہ
میں شرعی تعلیمات سے برارہ راست آگاہی
مطلوب ہو تو ان کی طرف مراجعت کرے۔ ان میں
جو کچھ اسے ملے گا وہ حقیقی اسلام ہوگا۔ قرآن و سنت اور اسلام کے حوالے سے یہ ایک عام معاشرتی سوچ ہے۔ امت مسلمہ کی ایک
کثیر جماعت اس پر یقین رکھتی ہے۔
لیکن کیا ایک شخص
جو اسلام سے رہنمائی چاہتا ہے۔ وہ قرآن کی
کوئی آیت یا حدیث کی کوئی عبارت جس سے اسے
متعلقہ مسئلہ کے بارے میں رہنمائی ملتی ہو اسے اپنے فہم کے مطابق سمجھ کر شریعت کے صحیح فہم کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ کیا
وہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ اس مسئلہ میں مجھے قرآن و حدیث سے یہ سمجھ آرہا ہے لہذا
یہی شریعت ہے۔ یہ ایک بنیادی ترین مقام ہے۔
اسلام کی علمی تاریخ میں یہاں پہنچنے کےبعد لوگوں کے مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے ہیں۔ سردست ان کی توضیح یا تقابل
وغیرہ پیش نظر نہیں۔ بس یہ بتلانا مقصود ہے کہ
ان آراء میں سے ایک رائے یہ بھی ہے کہ قرآن کی کسی آیت یا حدیث کی کسی
عبارت کا صرف وہ مفہوم شریعت کہلائے جانے کے قابل ہے جو صحابہؓ و سلف نے سمجھا ہے۔ میرا ذاتی فہم وہ عقل، لغت، تاریخ اور
تقلید، وغیرہ میں سے کسی بھی اساس پر ہو
وہ شریعت کہلائے جانے کے قابل نہیں۔ اگرچہ وہ صحیح اور غلط میں سے کچھ بھی ہوسکتا
ہے لیکن بہرحال وہ شریعت نہیں۔ اس دائرہ
میں صرف وہی فہم آتا ہے جو صحابہؓ و سلف
کے موافق ہو۔ جو ان کے علاوہ ہے وہ قابل اعتبار نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے
کہ صحابہؓ صاحب شرعیت یعنی پیغمبرؐ کے ہم
مجلس تھے۔ انہوں نے رسالت مآب سے براہ
راست استفادہ کیا تھا۔ مزید یہ کہ وہ اس
زمانے کے لوگ تھے جس میں یہ شریعت نازل ہوئی تھی۔ وہ ان حالات و واقعات اور حوادث کے عینی شاہد تھے
جنہیں سامنے رکھ کر یہ شریعت نازل ہوئی تھی۔
پھر یہ کہ انہی کی زبان اور اسلوب میں قرآن نازل ہوا ہے۔ انہی کی تہذیب، تمدن اور ثقافت کے رنگ میں قرآن نے نزول کرکے عالمگیر رہنمائی سے سرفراز کیا
ہے۔ پھر یہ کہ وہ حضورؐ کے براہ راست فیض یافتہ تھے۔ ان کا ایمان پوری امت سے بڑھ کر ہے۔ اس کی شہادت آپؐ نے خود دی ہے۔ اور خود ذات باری نے مطالبہ فرمایا ہے۔
{فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ
فَقَدِ اهْتَدَوْا} [البقرة: (137)]
’’سو اگر یہ اہل کتاب ایسے ہی ایمان لائیں
جیسے تم لائے ہو تو وہ بھی ہدایت پالیں گے۔‘‘
یہاں اللہ تعالیٰ
نے ان لوگوں کی ہدایت کی ضمانت دی ہے جو صحابہؓ کی طرح ایمان لائیں۔ جن کا فہم اور
عمل ان کی طرح ہو جائے۔ اور مزید فرمایا۔
{وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا
تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا
تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا} [النساء: (115)]
’’مگر جو شخص راہ راست کے واضح
ہوجانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر کوئی اور راہ اختیار
کرے تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیتے ہیں جدھر کا خود اس نے رخ کرلیا ہے، پھر ہم اسے
جہنم میں جھونک دیں گے جو بہت بری بازگشت ہے ۔‘‘
یہاں
ان لوگوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے
جو مؤمنین یا صحابہؓ کے علاوہ راستہ پر چلتے ہیں۔
چنانچہ قرآن وحدیث کے اس طرز فہم کے حامل لوگ خود کو ’’سلفی‘‘ کہلانا پسند کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہر اس
طرز فکر کی پرزور تردید کرتے ہیں جو اس
منہج پر قائم نہیں۔ جس میں فہمِ شرع کے
لیے اس کے علاوہ کوئی منہج یا طرز فکر
اختیا ر کیا گیا ہو۔ یہ لوگ اسے
خواہش پرستی، تقلید، گمراہی اور جہالت سے تعبیر کرتے ہیں۔
پھر ان کے ہاں فہم سلف کو معیار ٹھہرانے کا ہر گز یہ مطلب نہیں لیا
جاتا کہ قرآن و حدیث کی تفہیم میں صحابہؓ
نے جو تعبیرات اختیار کی ہیں بس ان
کے ظاہری الفاظ تک خود کو محدود کر دیا جائے۔ بلکہ اس سے ان
کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ان تعبیرات
کی گہرائی میں اترا جائے۔ ان کے
مقاصد اور جامعیت کو سمجھنے کی کوشش کی
جائے۔ چنانچہ ان کی روشنی میں تعبیرات سلف کے دائرہ میں رہتے ہوئے آج کے تہذیبی و تمدنی مسائل کو حل کیا
جائے۔ اس طرح یہ فہم سلف کی استدلالی
حیثیت کو بےپناہ وسعت سے ہمکنا کردیتےہیں۔
اس
سلسلہ میں یہ بھی واضح رہے کہ ان کی فہم سلف کی
یہ اتباع بحثیت مجموع ہے۔ اس میں کوئی خاص شخصیت کلی معیار نہیں۔ بلکہ اس میں تمام سلف ہی شامل ہیں۔ قرآن کی آیت یا کسی حدیث کے فہم میں صحابہؓ سے منقول تمام آراء کو یکجا کیا جائے۔ ان کے تعارض، تضاد اور تنوع کو سمجھا جائے۔ پھر
انہیں کی روشنی میں زیرمطالعہ آیت و حدیث کا مفہوم متعین کیاجائے۔ اور پھر وہی فہم
شرع ہوگا۔
Comments
Post a Comment