Skip to main content

1 ''قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق'' .3 Part


''قانون وضعی اور قانون تشریعی میں فرق''

 قسط نمبر: 3 (آخری قسط)




 


ازقلم: سیف الر حمان

   : 5

قانون وضعی اور تشریعی میں آخری فرق سزاؤں کا فرق ہے 

جو کہ اس بات پہ منحصر ہے کہ وضعی قانون سزاؤں میں یا تو بلکل ہی نا کافی ہے اور اگر سزا دیتا بھی ہے تو اس کی بنیاد تشدّد پر ہے ۔ جسکی وجہ سے انسان وقتی طور پہ تو گناہ چھوڑ دہتا ہے لیکن اسکی ذات میں اسکی حرص باقی رہتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں انسان مزید ضدی اور جرائم پر اسرار کرنے والا بن جاتا ہے کیوں کہ اس نظام میں تشدّد کے ذریعے جرم روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

جب کہ دوسری طرف قانون تشریعی میں تشدّد سےذیادہ اصلاح پر زور دیا جاتا ہے اگرچہ سزائیں سخت بھی ہوں۔ اس نظام میں جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس حکومت یا دیگر اداروں کا ڈر انسان کے ذہن میں نہیں بٹھایا جاتا بلکہ افراد کی تربیت ایسے زاویوں پہ کی جاتی ہے کہ انسان برائی کو چھوڑ کر نیکی کی طرف لپکتا ہے ،  ایک ایسی ذات پہ ایمان پختہ کرنے پہ زور دیا جاتا ہے جو ہر پل اور ہر وقت اسے دیکھتی ہے۔انسان کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ جب اللہ کی ذات پر انسان کا یقین پختہ ہو جاتا ہے تو انسان بند دروازوں میں بھی جرم کا سوچنے سے ڈرتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...