ازقلم: سیف الر حمان
: 5
قانون وضعی اور تشریعی میں آخری فرق سزاؤں کا فرق ہے
جو کہ اس بات پہ منحصر ہے کہ وضعی قانون سزاؤں میں یا تو بلکل ہی نا کافی ہے اور اگر سزا دیتا بھی ہے تو اس کی بنیاد تشدّد پر ہے ۔ جسکی وجہ سے انسان وقتی طور پہ تو گناہ چھوڑ دہتا ہے لیکن اسکی ذات میں اسکی حرص باقی رہتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں انسان مزید ضدی اور جرائم پر اسرار کرنے والا بن جاتا ہے کیوں کہ اس نظام میں تشدّد کے ذریعے جرم روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جب کہ دوسری طرف قانون تشریعی میں تشدّد سےذیادہ اصلاح پر زور دیا جاتا ہے اگرچہ سزائیں سخت بھی ہوں۔ اس نظام میں جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس حکومت یا دیگر اداروں کا ڈر انسان کے ذہن میں نہیں بٹھایا جاتا بلکہ افراد کی تربیت ایسے زاویوں پہ کی جاتی ہے کہ انسان برائی کو چھوڑ کر نیکی کی طرف لپکتا ہے ، ایک ایسی ذات پہ ایمان پختہ کرنے پہ زور دیا جاتا ہے جو ہر پل اور ہر وقت اسے دیکھتی ہے۔انسان کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ جب اللہ کی ذات پر انسان کا یقین پختہ ہو جاتا ہے تو انسان بند دروازوں میں بھی جرم کا سوچنے سے ڈرتا ہے۔
Comments
Post a Comment