: سیکولرزم اور اسلام
سیکولرزم انسانی زندگی کو انفرادی اور اجتماعی دو پہلووں سے دیکھتا ہے۔ جوامور انسان اپنی ذاتی حیثیت سے سرانجام دے, ان میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو انہیں نجی اور انفرادی معاملات قرار دیتا ہے۔جیسے عقائد اور عبادات ہیں۔ اور جو امور وہ دوسرں کی شراکت سے سرانجام دیتا ہے انہیں اجتماعی معاملات کہا جاتا ہے۔ جیسے سیاست, معیشت اور معاشرت ہے۔ سیکولرزم کہتا ہے حکومت کا صرف اجتماعی امور سے سروکار ہونا چاہیے۔ انفرادی امور انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ ان میں ریاست دخل نہ دے۔البتہ اجتماعی امور کی باگ دوڑ حکومت کے ہاتھ ہونی چاہیے۔
اسلام انسانی زندگی کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے پہلو سے دیکھتا ہے۔ جس کام سے شخصی فائدہ ہو اسے حقوق العباد میں شمار کیا جاتا ہے جیسے تجارتی معاہدات ہیں۔ اور جن امور میں معاشرے کا فائدہ ہو انہیں حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ جیسے عبادات, حدود,زکاۃ, صدقہ, عشر, خراج, کفارات اور مال غنیمت سے خمس ہیں۔
گویا یہاں بنیادیں الگ ہیں
مثلا
: 1
عبادات اور اجتماعی معاشی امور جیسے صدقہ و زکاۃ وغیرہ ہیں
سیکولرزم میں شخصی معاملہ ہے جبکہ اسلام میں اجتماعی۔
: 2
سیکولرزم میں انسانی زندگی میں سے خدا کو الگ کرکے دیکھا گیا ہے۔
جس میں مذہب کو صرف انفرادی زندگی تک محدود کیا گیا ہے۔ وہ بھی انسان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے وہ مذہبی بن جائے یا ملحد ہو جائے۔ جبکہ اسلام میں انسانی زندگی کو خدا اور توحید کی بنیاد پر دیکھا گیا ہے۔ اگر کسی معاملہ میں اجتماعی پہلو غالب ہے تو وہ حق اللہ ہے اور اگر شخصی غالب ہے تو وہ حق العبد یعنی بندے کا حق ہے۔
( استاذ عبدالحنان کیلانی)
Comments
Post a Comment