کیا مسلمان
اسلام کی وجہ سے پسماندہ ہیں؟
اس وقت دنیا میں سب سے پسماندہ لوگ مسلمان
ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر شعبہ زبوں حالی کا
شکار ہے۔ سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت ہر چیز ابتری میں ہے۔ غربت، افلاس، جہالت اور عزت نفس کے فقدان جیسے موذی امراض نے
مسلمانوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ عام طورپر اس کا الزام اسلام کے سرتھونپ دیا
جاتا ہے۔ اور یہ کہا جاتا ہے کہ اگر مسلمان اسلامی نظریہ (Islamic Ideology) کو
خیرباد کہہ دیں تو ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ذیل میں اسی حوالے سے چند
ابتدائی شبہات کا جائزہ لیا جاتا ہے:
1۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام
نے ایک مختصر وقت میں بڑی زبردست تہذیب کو جنم دیا۔ جس نے دنیا میں رائج
تہذیبوں میں سب سے زیادہ عمر پائی۔ علوم وفنون، لائبریریاں اور تاریخی آثار میں اس
بات کی شہادتیں آج بھی موجود ہیں۔ اندلس تو
یورپ کا اپنا ہی ایک حصہ ہے۔ وہاں یہ سب نشانات مٹانے کے باوجود اب بھی
اپنی آب و تاب کے ساتھ قائم ہیں۔
بارویں اور تیرویں صدی میں علوم
عربیہ کے ترجموں کی تحریک کا آغاز
ہوا۔ جو بعد میں یورپین نشاۃ ثانیہ کی
اساس بنی۔
2۔ قرآن نے مسلمانوں کو کائنات
میں غور و خوض کی تلقین کی ہے۔
انہیں زمین کی آبادکاری کی ہدایت فرمائی
ہے۔ سب سے پہلے نازل ہونےوالی وحی پانچ آیات پر مشتمل ہے۔ ان میں علم،
پڑھنے لکھنے اور غور و خوض کی ہی دعوت دی
گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تنظیم و دریافت جیسے امور سے مسلمان آغاز سے ہی واقف تھے۔ اسلامی تہذیب
مادی اور رحانی ہر دو پہلو سے اروج کمال تک پہنچی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس
کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔
3۔
مسلمانوں کی موجودہ حالت کا ذمہ دار اسلام نہیں۔ اسلام تو ہر طرح کی پسماندگی کی مخالفت کرتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ صورت
حال اسلام کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے ہی
ہے۔انہوں نے اسلام کے بارے میں سنجیدگی ختم کردی۔ اب وہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی اسلام سے ناواقف
ہیں۔ اکثریت مسلم کے ہاں اگر کوئی اسلام ہے تو وہ بس بزرگوں کےاقوال، قصے کہانیاں
اور چند فقہی فروعات ہیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیم کتاب و سنت کا علم نہ ہونے کے
برابر ہے۔
4۔ اسلام دائمی اورہمہ جہتی خیر کا حامل ہے۔
اس کی پیدا کردہ تہذیب ہردور اور ہر پہلو سے خیر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے
اگر اسبابِ زوال تلاش کیے جائیں تو وہ اسلام نہیں بلکہ کئی طرح کے
داخلی و خارجی اسباب ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک سبب دور استعمار
میں استعماریت ہے۔ جس میں ان کے ذہنوں کو
زبردستی ایک ایسے اسلام کا سبق یاد کرایا گیا
جو مثبت، تعمیری اور حرکی صلاحیتوں
سے محروم تھا۔
5۔ عالم اسلام کی موجودہ تہذیبی و تمدنی
حالت اور اسلام کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
مسلمان ایک مخصوص قسم کے تاریخی مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔ دنیا کی ہر
تہذیب کو یہ حالت درپیش ہوتی ہے۔ اس کا الزام اسلام کے سرتھوپنا بالکل غلط ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے لاتینی امریکہ کی پسماندگی
کا الزام مسیحیت پر عائد کر دیا جائے۔
حالانکہ عیسائیت اس سے بری ہے۔
اسلام کے بارے میں
اگر ترقی اور پسماندگی کا فیصلہ کرنا ہو تو قرین انصاف یہ ہے کہ تہذیب و
تمدن کے بارے میں اس کے مؤقف کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ علمی دیانت بھی اسی بات کی
متقاضی ہے کہ مسلمانوں کی بجائے اسلام کو دیکھ کر حکم لگایا جائے۔ لہذا مسلمانوں
کی موجودہ حالت کا ذمہ دار اسلام کو قرار
دینا سراسر اتہام ہے۔ اس کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔
Comments
Post a Comment