Skip to main content

لاقانونیت اور اس کا حکم

 

(سیاسیات)

لاقانونیت اور اس کا حکم






۔       1 :  جب کسی سطح پر ادارا جاتی تنظیم ختم ہوجاتی ہے تو مسؤلیت اور اطاعت بھی جاتی رہتی ہے

مفادعامہ داؤ پر لگ جاتا ہے۔ امن اور حقوق جاتے رہتے ہیں۔ تباہی اور بربادی شروع ہو جاتی ہے۔

قتل و غارت کا بازار گرم ہو جاتاہے۔ اسے لاقانونیت اور انارگی کہتے ہیں۔ یہ قانون سے بغاوت یا

حکمران کےقتل یا حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں سے جنم لیتی ہے۔

۔       2 : مذہب اور عقل دونوں ہی اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اس کے نقصانات پارٹی بازی سے

کم نہیں۔ یہ وقت، مال اور قوت کاضیاع ہیں۔ عمارتیں مسمار ہوتی ہیں۔ نظام زندگی مفلوج ہو جاتا

ہے۔ اس انارگی اور لاقانونیت سے فتنوں کو اپنے نفوذ کے بہت مواقع ملتے ہیں۔ حضرت علیؓ نے

خوارج کے بارے میں کہا تھا 

’’ ((أتريدون أن تردوننا إلى فوضى الجاهلية))‘‘کیا تم ہمیں جاہلیت کی

انارکی اور لاقانونیت کی طرف لیجانا چاہتے ہو۔‘‘

[156]    منهج الاعتدال

ایک ظالمانہ حکومت بھی لاقانونیت اور انارکی سے بہتر ہوتی ہے۔ کیونکہ انارکی ہرچیز کو ختم

کردیتی ہے۔

۔        3 : اگر کسی جگہ کوئی نظم قائم ہے۔ ادارہ جاتی تنظیم موجود ہے۔ تعلیمی، مذہبی، سیاسی، معاشی اور

معاشرتی ادارے کام کر رہے ہیں۔ وہاں انہیں ختم کرنے کی بجائے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔

حضرت یوسفؑ اور رسولؐ اللہ کی زندگی سے یہی درس ملتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...