Skip to main content

معاشرے میں فساد اور بدامنی کے معاشی اسباب (تعلیمات قرآنی کی روشنی میں)

 

 

معاشرے میں فساد اور بدامنی کے معاشی اسباب (تعلیمات قرآنی کی روشنی میں) 🔹 🪴

تحریر✒ 

 عمرفاروق قدوسی متعلم الحکمۃ انٹرنیشنل  




                دنیا و کائنات کے تمام مذاہب میں اسلام ایک واحد مذہب ہے جس نے انسانوں کے اجتماعی شعور کا بھی لحاظ رکھا ہے، اور انسان کے باہمی تعلقات سے پیدا ہونے والی اجتماعیت کو بھی تسلیم کیا                     ہے ۔ ساتھ ہی ان عوامل کی بیخ کنی کرتا ہے جس سے معاشرے میں فساد اور بدامنی پیدا ہوتی ہے ۔

آج ہمارا معاشرتی نظام فساد اور بدامنی کا شکار ہے اور اس فساد اور بدامنی کے اسباب میں سے معاشی اسباب بھی شامل ہیں۔ اسلام میں خرید و فروخت اور لین دین کے معاملات میں کوئی ایسا معاملہ جائز نہیں جس سے فاسد نظام معیشت کی صورت پیدا ہو ، یا اس کو کسی قسم کی اعانت پہنچے یا اس کے نتیجہ میں معاشرے میں کوئی بدامنی پیدا ہو ۔ اسی لیے اسلام نے سود ، جوا ، ذخیرہ اندوزی کی تمام ظاہری و خفی اقسام و اصناف اور اسی طرح عقود فاسدہ کی تمام صورتوں کو ناجائز اور مردود قرار دیا ہے ۔

چنانچہ معاشرہ میں بدامنی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے ۔

(Concentration) )       ذ خیرہ اندوزی  1)

                ذخیرہ اندوزی یعنی وہ مال ودولت جو خزانہ کیاجائے یاجمع کیاجائے اورجس سے  حقو اللہ  اور حقوق العباد  بھی ادانہ کئے جائیں، تویہ ذخیرہ اندوزی کی وہ شکل ہے جس کے بارے میں  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے              :

وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَایُنْفِقُوْنَہَافیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍoیَوْمَ یُّحْمیٰ عَلَیْہَا فِیْ نَارِجَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوْبُہُمْ وَظُہُوْرُہُمْ ھٰذا مَاکَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا ماکُنْتُمْ تَکْنِزُوْن

” اورجولوگ خزانہ بناکررکھتے ہیں سونے اورچاندی کواور اس کواللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، سوان کو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو، اس روز (واقع ہوگا) جبکہ اس (سوناچاندی) کودوزخ کی آگ میں تپایاجائے گا، پھراس سے ان کی پیشانیاں اورپہلو اورپیٹھیں داغی جائیں گی (پس ان سے کہاجائے گا) یہی ہے وہ جسے تم اپنے لیے جمع کرتے رہے تھے، سواب مزہ چکھو اپنے جمع کرنے کا‘‘۔

                                اسی طرح ایک اورآیت میں اللہ تعالیٰ کنز کرنے والوں اورمال خرچ نہ کرنے والوں کے بارے میں ارشادفرماتے ہیں :      

وَلَایَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآاٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ۔

جولوگ اللہ کے دیے ہوئے فضل میں بخل کرتے ہیں، وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ فعل ان کے لیے اچھاہے، بلکہ درحقیقت یہ ان کے لیے بُراہے“                      

ایک اورمقام پرارشادفرماتے ہیں    :

وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ oاَلَّذِیْ جَمَعَ مَالاً وَّعَدَّدَہٗ oیَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗ اَخْلَدَہٗ

                بڑی خرابی ہے ہرایسے شخص کی جوعیب ٹٹولنے والا، غیبت کرنے والا ہو ۔جومال جمع کرتاجائے اورگنتاجائے   وہ سمجھتاہے کہ اس کامال اس کے پاس سدا رہے گا    ‘‘

دولت کی محبت، لامحدود ملکیت کی خواہش اوربخل یہ تینوں چیزیں سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد ہیں، جبکہ اسلام کاان تینوں چیزوں سے دورکابھی واسطہ نہیں اوراسلام کی تعلیمات یہ ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہوجائے، بلکہ یہ دولت گردش میں رہے،

ارشادخداوندی ہے         

کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃً بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْکُمْ

خبردار ایسانہ ہو کہ مال ودولت صرف تمہارے دولتمندوں میں ہی محدود ہوکررہ جائے      ’’

اس آیت سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام بالعموم سرمایہ داری یاسرمایہ کے اجتماع ومرکزیت کے حق میں نہیں، بلکہ اسلام کی معاشی تعلیمات کامنشایہ ہے کہ دولت ہمیشہ گردش میں رہے، اپنی ضرورت سے زائد مال حاجتمندوں کی ضروریات پرخرچ کیاجائے، اکتناز ہی کو ختم کرنے کے لیے زائداز ضرورت فی سبیل اللہ خرچ کرنے کاحکم دیاگیاہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ کارشادہے :

وَفِیْ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآءِلِ وَالْمَحْرُوْمِ

اوران کے مالوں میں سائل اورنادارلوگوں کاحق ہے“   

    (جاری ہے)

 🔸 الحکمہ انٹرنیشنل لاہور ، پاکستان ، زندگی شعور سے 💫


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...