معاشرے
میں فساد اور بدامنی کے معاشی اسباب (تعلیمات نبویہ ﷺکی روشنی میں) 🪴 🔸
قسط نمبر :02
: عمرفاروق قدوسی ✒ تحریر
️
ان سب آیات سے یہی نتیجہ نکلتاہے کہ مال ودولت کو ذخیرہ
کر کے رکھنا مقصود نہیں، بلکہ دولت کامقصد اجتماعی خوشحالی اورکفالت عامہ ہے ۔ 🔹
🔹 ان آیات سے واضح ہے کہ مال و دولت محض
ذاتی اور انفرادی استعمال کے لیے نہیں بلکہ جو ضرورت اور حاجت سے زائد ہو اس کو بیت
المال میں جمع کروا کر غرباء ، مساکین اور
حاجت مندوں میں تقسیم کیا جائے،اور اجتماعیت کا مکمل خیال کیا جائے ، اسی لیے ان آیات
کی تفسیرمیں جمہور کامسلک یہ ہے کہ جس مال سے زکوٰۃ اوردوسرے مالی فرائض ادانہ کئے
گئے ہوں توہ مال احتکار واکتناز کی فہرست میں شامل اورکنز سے متعلق وعید کا مصداق
ہے اوراسی قسم کی دولت وثروت کانام سرمایہ داری ہے اوریہ حرام اورباطل کردینے کے
قابل، اورا پنی ضروریات اوراہل وعیال کی حاجات اصلیہ سے زائد ہے اب اس مال پر اجتماعی حقوق عائد ہوچکے ہیں اور
اب اس کواجتماعی حاجات میں صرف ہوناچاہیے ۔
ابوذرغفاریؓ
اوربعض علماء اسلام اس کو بھی جمع کرکے رکھنا حرام بتاتے ہیں “”
🔹
چنانچہ
احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے، بلکہ بعض صحابہ وتابعین وغیرہ نے حاجت سے زائد
رکھنے کو حرام ہی فرمایا ہے ۔
🔹
🔹
حضرت
ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کامذہب یہ تھاکہ اہل وعیال کے نفقہ سے زیادہ روپیہ جمع
کرنا قطعاً حرام ہے، وہ اسی کافتویٰ دیتے، اسی کی تبلیغ کرتے اوراسی کاسب کو حکم دیتے
تھے ‘‘۔
🔹 اس
کی دلیل وہ نبی کریم ﷺ کے ان ارشادات و فرمودات
پررکھتے ہیں جن میں جوڑ جوڑ کررکھنے کی ممانعت کی گئی ہے اوراللہ کریم کی رضاجوئی کے لیے
محتاجوں پرخرچ کردینے کی تاکید اورستائش کی گئی ہے، ان بہت سی احادیث میں سے ایک
حدیث درج ذیل ہے،
جسے حضرت
ابوذرؓ روایت کرتے ہیں:
’’
🔹
میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کے علاقہ حرہ میں چل رہاتھا، ہمارارخ احد کی
طرف تھا، آپ ؐ نے فرمایا: ابوذرؓ! میں نے عرض کیا: حاضر ہوں، اے اللہ کریم کے رسول
ﷺ ! آپؐ نے فرمایا: مجھے اس بات سے خوشی نہ ہوگی کہ میرے پاس احد پہاڑ کے
برابر سونا ہو، پھر اس پرتین روز گزرجائیں اورمیرے پاس اس میں سے ایک دینار بچ
جائے، البتہ ادائیگی قرض کے لیے کچھ بچالوں تو اوربات ہے، ہاں میں اسے اللہ کریم
کے بندوں میں ایسے اورایسے اورایسے بانٹوں اورآپؐ نے اپنے دائیں، بائیں اورپیچھے
اشارہ کرکے دکھایا۔پھرآپؐ چل پڑے اورفرماتے جاتے تھے: یقیناً آج جو کثرت (مال)
والے ہیں وہ قیامت کے دن قلیل (ثواب) والے ہوں گے ہاں البتہ جس نے ایسا کیا اورایسے
کیا اورایسے کیا اورآپؐ نے اپنے دائیں، بائیں اورپیچھے ہاتھوں کو (گھماکر) دکھایا،
مگرایسے (خوش نصیب) بہت کم ہوں گے ‘‘ ۔
🔹 بہرحال
اسلام کے اگرسارے نظام کاجائزہ لیاجائے تواس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ اس کی تمام تعلیمات
کاخلاصہ اکتناز ہی کی
ممانعت ہے،
🔹
اسلام فرد
اورجماعت کی خوشحالی چاہتاہے، محنت کو اولین حیثیت دیتاہے اورکسی بھی صورت میں
افراد کوجماعت کے استحصال کی اجازت نہیں دیتا، جبکہ سرمایہ دار کی ساری تعلیمات
کابنیادی نقطہ ہی مال ودولت کی ذخیرہ اندوزی ہے اوراسی بنیادپر اسلام اورسرمایہ
داری کی راہیں الگ الگ ہوجاتی ہیں
الحکمہ
انٹرنیشنل لاہور ، پاکستان ، زندگی شعور سے
💫
bohat umdaa
ReplyDelete