"واقعہ بیانی اور ہمارا میڈیا"
تحریر: نعمان عثمان
متعلم الحکمۃ انٹرنیشنل
معاشرے
میں بہت سارا بگاڑ بہت ساری خرابیاں بیان واقعہ اور تعبیر کے ذریعے پھیلی ہیں پھیلائی
گئی ہیں۔
اور پھر تعبیر کے ذریعے ہی مغربی بولی بولتا ہے جیسا وہ چاہتے ہیں یہ ویسے ہی ہمارے سامنے خبر کو بناکر پیش کرتا ہے
یہی وہ ہتھکنڈا ہے جو مغرب استعمال کرتا ہے اور اپنی تہذیب کو ہمارے معاشرے میں پھیلا رہا ہے۔
میڈیا ہمیشہ تعبیر کا سہارا لیتا ہے
میں
ایک مثال سے آپ کو بات سمجھاتا ہوں
ایک
لڑکی نیم برہنہ کپڑے پہن کر اسٹیج پر بہت سارے لوگوں کے سامنے ناچتی ہے۔
اس
کی ایک تعبیر یہ ہوگی کہ یہ فاحشہ ہے۔
اور دوسری تعبیر یہ کہ یہ ایکٹر ہے اداکارہ ہے !
جب
بھی کوئی شخص کسی بات کی کسی واقعے کی کوئی تعبیر کرتا ہے
تو
وہ دو بنیادوں پر تعبیر کررہا ہوتا ہے
نمبر 1 ، اس کا نظریہ
نمبر 2 ، دوسری اپنی اقدار کی بنیاد پر جو اس کے ذہن میں ہوتی ہے۔
آج
جو میڈیا کسی بھی واقعہ یا کسی بھی بات کی آگے تعبیر کرتا ہے تو اس کے پیچھے مغربی
نظریات اور اس کی اقدار ہوتی ہیں
یہی
وجہ ہے کہ اب ہمارا معاشرہ فحاشی اور عریانی کو آزادی اور مساوات کے نام سے گرداننے
لگا ہے۔
اس
سے آپ تعبیر کی طاقت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔
لیکن
یہی تعبیری صلاحیت ہم سب کو بھی حاصل ہے
ہم
بھی اپنے خطبات،تقاریر،تحاریر اور عام گفتگو میں اسلامی معاشرے کی بہترین عکاسی
کرسکتے ہیں
ہم
اسی تعبیر کے ذریعے برائی کو کھل کر اس کا نام لیکر بیان کرسکتے ہیں
اور
سچائی کو کھل کر بیان کرسکتے ہیں۔
بشرطیکہ
جب ہمارا نظریہ پختہ ہو اور ہم اپنی تہذیب
اور اقدار سے واقف ہوں۔
اس
لئے اس چیز کو کبھی بھی ہلکا مت لیں اور جب بھی کہیں بھی کوئی بات کریں خطبہ دیں،تقریر
کریں،تحریر لکھیں
عام
گفتگو کریں تو اسلامی تناظر میں اس کی اچھائی اور برائی کے فرق کو واضح طور پر پیش
کریں
اچھائی
کو بیان کریں اور برائی کو برائی کے نام سے بیان کریں ناکہ برائی کے نام کی جگہ
مغربی اصطلاحات کا استعمال کریں۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا
ReplyDelete