Skip to main content

03 اسلام میں رہبانیت نہیں

 

اسلام میں رہبانیت نہیں





                                                                                                        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا واضح طور پراقرار کیا تھا کہ اسلام کے اندر کوئی رہبانیت نہیں ہے۔ اسلام رہبانیت کا انکار کرتا ہے کیونکہ وہ بشری طبیعت کے مخالف ہےاور اللہ تعالی کی اس کے مخلوق کے طریقے میں روگردانی کرنا ہے۔ اسی وجہ سے شادی کو دین کی حفاظت اور نفس کو مضبوط بنانے کے لئے عبادت کے لیے فری ہونے پر ترجیح دی گئی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو ہمارے دین حنیف کے مخالف ہے۔

صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک روایت موجود ہے:

                ))أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ، قَالُوا كَذَا وَكَذَا، لَكِنِّي أُصَلِّي، وَأَنَامُ، وَأَصُومُ، وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي ؛ فَلَيْسَ مِنِّي ".))                      

صحیح المسلم : 1401 ۔

                ”اصحاب النبی رضوان اللہ تعالیٰ عنھم میں سے ایک جماعت نے ازواج نبی ﷺ سے آپ ﷺ کے گھریلو اعمال کے بارے میں سوال کیا تو ان میں سے بعض نے کہا میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا اور بعض نے کہا کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور بعض نے کہا کہ میں بستر پر نیند نہیں کروں گا آپ ﷺ نے اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور فرمایا قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح گفتگو کی ہے حالانکہ میں نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں میرے طریقے پر نہیں“۔

                                یہ قصہ عبادت کے عقیدے کے دعوے کے تحت اسلام کے نقطہ نظر کی اعتدال پسندی اور اس کے سنت اور زھد کو مسترد کرنے کا بہترین ثبوت ہے۔ یہ مکمل طور پر دلالت کرتا ہے کہ اسلام کے اندر   حلال چیز کو حرام قرار دینا زھد  نہیں ہے انسان گوشت کو چھوڑ دیتا ہےاور شادی کو  بھی چھوڑ دیتا ہے۔

 اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:

                                                ﴿يـاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبٰتِ مَااَحَلَّ اللّٰهُ لَـكُموَلَا تَعتَدُوا‌ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ المُعتَدِينَ ﴾                                 

                المائدہ : 87 ۔

                ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں“۔

                ﴿قُل مَن حَرَّمَ زِينَةَ اللّٰهِ الَّتِى اَخرَجَ لِعِبَادِه وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزقِ‌ؕ                                         

الاعراف : 32 ۔

                ”اے محمدؐ، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں“ ؟

                مسلمانوں کے ہاں زہد رہبان کے زہد کی طرح نہیں ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک عبادت کی صحت میں ان پاکیزہ چیزوں سے فائدہ اٹھانا جس کو اللہ تعالی نے شریعت کے انداز میں حلال کر دیا ہے وہ کوئی نقصان نہیں دیتی۔مسلمان کلی طور پر دنیا کی لذتوں سے انصراف نہیں کرتا  اور نہ ہی عبادت کو چھوڑتا ہے اور نہ ہی وہ عبادت کے اندر خلل آتا ہے اس حیثیت سے کہ وہ درستگی کے راستے سے ہٹ جائے۔اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسلمانوں کو حکم دیتے تھے تو ان کو ان چیزوں کا حکم دیتے جن پر وہ متلازمت اور ہمیشگی اختیار کرنے کی طاقت رکھتے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبتل سے منع فرمایا تھا امام ابن ماجہ﷫ نے حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک حدیث نقل کی ہے آپ فرماتے ہیں:

                ((رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا.))

                                صحیح البخاری : 1243 ۔

                ”رسول اللہ  ﷺ  نے تبتل یعنی عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی سے منع فرمایا تھا۔ اگر نبی کریم  ﷺ  انہیں اجازت دے دیتے تو ہم تو خصی ہی ہوجاتے“۔

                جس طرح یہ نصوص اور اس کے علاوہ دوسری نصوص سے بالکل واضح ہے کہ اسلام ایک بہترین مذہب ہے اس میں کوئی افراط و تفریط نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عبادت جو سستی اور اکتاہٹ کی طرف لے جاتی اس کو برقرار نہ رکھتے تھے اور نہ ہی اس تفریط کو  برقرار رکھتے تھے جو شہوات اور لذتوں میں ڈوب جانے کی طرف لے جاتے تھے۔  اللہ تعالی کے قول میں اسلام کا بہترین ہونا اسی طرح ہی ہے:

                ﴿وَكَذٰلِكَ جَعَلنٰكُم اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُونُوا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيكُم شَهِيدًا﴾                         

البقرۃ : 143 ۔

                امام طبری﷫ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالی نے ان کا وصف بہترین اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ وہ دین میں بہترین ہیں انہوں نےنصاری  کی طرح غلو نہیں کیا جنہوں نے ترہیب کے ذریعہ سے غلو کیا اور انہوں نے اسی کے بارے میں وہ کچھ کہا جو ان کو نہیں کہنا چاہیے تھا اور وہ بہترین اس وجہ سے ہے کیونکہ وہ اہل تقصیر نہیں ہے جس طرح ان یہودیوں نے تقصیر کی جنہوں نے اللہ تعالی کی کتاب کو بدل ڈالا انبیاء کو قتل کر ڈالا اور انہوں نے اپنے رب کی تکذیب کی اور کفر کیا لیکن وہ اہل اسلام بہترین امت ہے اور اس میں اعتدال قائم کیے ہیں تو اس وجہ سے اللہ تعالی کے نزدیک جو بہترین امور ہیں بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ان کو بہترین لوگوں میں ذکر کیا۔                   

جامع البیان عن تاویل الایۃ  : ج 3 ، ص 142 ۔

                                                وھذا یدل علی حکمۃ الاسلام حین حرم الرھبانیۃ :  لان دوافع الفطریۃ  لا یجوز کبتھا  کما لا یجوز اطلاقھا ،  وانما یجب تھذیبھا و ضبطھا

یہ ساری کی ساری عبارت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اسلام نے جب رہبانیت کو حرام کیا ہے اس کے اندر حکمتیں ہوتی ہیں ۔

اس کے اندر حکمتیں یہ ہیں  کہ  انسان کی فطری محرکات (جنسی خواہشات) کو  مکمل طورپرروکنا جائز نہیں ہے ، جس طرح  اس کو مکمل طور پر آزادی دے دینا جائز نہیں ہے ، بلکہ ا س کے لیے ا یک مکمل نظام اور اصول و قواعد ہونے چاہییں ۔

 

از قلم : محمد اسلم بن محمد یاسین 

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...