بھائی چارے کا اسلامی اور مغربی مفہوم
لفظ
بھائی چارہ جب ہم اس میں غور و فکر کرتے ہیں
تو ہم یہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ
یہ لفظ بہت سے بڑے بڑے معانی کو
اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ آزادی اور اسلام قبول کرنے والوں کے درمیان مساوات کے
معانی کو بھی سموئے ہوئے ہے۔ کسی کو کسی
پر کوئی فضیلت نہیں ہے ماسوائے جو تقوی اختیار کرنے کی وجہ سے زیادہ ہو یا عمل صالح کرنے کے لحاظ سے زیادہ ہو ۔ ان کی جنس اور ان کے رنگوں کو صرف نظر کرتے ہوئے ہوئے اور اسی وجہ سے سے اسلام کا جو ریکارڈ ہے وہ آج آزادی اور مساوات
کا مختلف علاقوں سے نعرہ لگانے والوں میں
بہت بڑھ چکا ہے۔
ڈاکٹر صالح عبدالعزیز اس قول کی طرف رہنمائی
کرتے ہوئے کہتے ہیں جی ہاں جان جاگ روسو جو کہ
فرانسیسی انقلاب آزادی مساوات اور بھائی چارے کی طرف متوجہ تھے انہوں نے اس
کا نعرہ لگایا اور اس کے بعد ان کے پیچھے
ہی اس زمانے کے بہت زیادہ فلسفی اور مفکرین
نے بھی نعرہ لگایا۔
لیکن
ہم پر واجب ہے کہ ہم اپنے امی نبی جو کہ
تقریبا چودہ سو سال پہلے بھیجے گئے تھے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اس بات کا نعرہ
لگایا کہ لوگ برابر ہیں جس طرح کنگی کے
دندانے برابر ہوتے ہیں۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے سوائے اس کے
کہ ان میں سے کوئی اگر تقوی کو زیادہ اختیار کرلے، ان کی بات کو ترجیح دیں ۔ اس کا
نتیجہ معاشرے کے مومنین کے آپس میں پر شفقت دینی تعلقات اور عام فرض کو ادا کرنا اوراچھی مثال کی صورت
میں نکلا اور اس نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ جنسی تعلقات اور سیاسی عقائد سے زیادہ مضبوط ہے۔
تطور
النظریۃ التربویۃ : (201 ۔۔ 202)
اسلام
نے تعصبات اور تنازعات کا خاتمہ کیا جو کہ قبل از اسلام معاشرے میں پائے جاتے تھے۔
یقیناً اسلام اپنے دوسرے آسمانی ادیان کے مقابلے میں ان دوسرے عقائد کے اہتمام کی
وجہ سے زیادہ مقبولیت والا ہو جاتا ہے جن
کا مختلف زندگیوں کے پہلوؤں سے تعلق ہوتا
ہو چاہے وہ معاشی و معاشرتی یا سیاسی
انداز کی صورت میں ہوں یا کسی اور صورتوں
میں۔ اسی لیے اسلام نے اجتماعی زندگی کو ایسے صحیح فضائل کی بنیادوں پر منظم کیا
ہے جو اوہام اور انحرافات سے بہت زیادہ دور ہوتے ہیں۔
از قلم:
*محمد اسلم بن محمد یاسین
Comments
Post a Comment