ماورائے عدالت قتل
تحریر: نعمان عثمان
نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے
جو
کوئی ان کی شان میں گستاخی کرے اس کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں اختیار کرنی چاہئے
ایسے
بندے سے نفرت بھی پھر ایمان کا حصہ بن جاتی ہے۔
لیکن
ایک نظام کے ہوتے ہوئے،قانون کے ہوتے ہوئے
عدالتوں
کے ہوتے ہوئے خود ہی فیصلے صادر کرنا
اسلام
نے کبھی اس کی اجازت نہیں دی۔
ماورائے
عدالت قتل درست نہیں ہے
اس
سے بےگناہوں کے قتل کا بھی راستہ کھلتا ہے
اگر
کوئی یہ کہتا ہے کہ عدالتیں اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کر رہی تو ہمارا یہ کام
نہیں کہ ہم اپنی عدالتیں لگالیں
بلکہ
ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ان عدالتوں کو ٹھیک کریں آواز بلند کریں ان کو درست کرنے
کی کوشش کریں
اگر
عدالتی نظام کو خراب کہہ کر یہ قتل درست قرار دیا جائے
تو
پھر اور بھی سزاؤں کا نفاذ جس میں رجم، چور کی سزا اور دیگر سزاؤں کے فیصلے بھی
لوگ خود ہی کرنے لگ جائیں گیں
کیونکہ
ہماری عدالتیں انصاف نہیں کرتی۔
لیکن
اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا
مجرموں
پر سزاؤں کا نفاذ عدالت کی ذمہ داری ہے
شریعت
ماورائے قتل کی اجازت عوام کو نہیں دیتی کہ وہ مجرموں پر سزاؤں کو نافذ کرتے پھریں۔
اس
ضمن میں ایک ایک نابینا صحابی کا قصہ بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے جنھوں نے اپنی
لونڈی کو گستاخی کی وجہ سے قتل کردیا تھا۔
تو
عرض ہیکہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اگر صحابی جھوٹ بولتے تو
وحی کے ذریعے بتلادیا جاتا
لیکن
آج نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں نا ہی وحی آنی ہے۔
اب
اگر کوئی کسی پر توہین کا الزام لگائے گا تو اس کو عدالت میں اس الزام کو ثابت
کرنا ہوگا
اور
جو کوئی الزام ثابت نہ کرسکے گا وہ خود مجرم شمار ہوگا!
سانحہ_سیالکوٹ#
Comments
Post a Comment