Skip to main content

اسلام کا تصور ملت اور مروجہ قومی عصبیت

 


اسلام کا تصور ملت اور مروجہ قومی عصبیت




            وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (آل عمران 103)

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

      (اقبال)

      دنیا میں قومیت کی تشکیل کے دو تصورات ہیں ۔

1️          ایک تصور جو مغرب نے پیش کیا ہے جو نسل ، رنگ و بو ، قومیت ، وطنیت اور اس طرح کے دیگر تصوارت پر قائم ہے

2️          ایک نظریہ ملت وہ ہے جو اسلام نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے ، جو زبان ، رنگ ونسل اور اس طرح کے دیگر امتیازات سے بالاتر ہے اس کی بنیاد صرف کتاب و سنت ہے ۔

بتان رنگ و بو کو توڈ کر ملت میں گم ہوجا

نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی ، نہ افغانی

        🔹 یہ حقیقت ہے کہ جب تک مسلمان  اخوت ، یگانگت ، محبت ، ہمدردی ، اتحاد ویکجہتی اور مرکزیت پر قائم رہے تو ان کے عزائم آسمانوں کی بلندیوں کو چھوتے تھے ، فتوحات ان کا مقدر رہیں ، کامیابی ان کے قدم چومتی رہی اور کتاب و سنت کو تھام کر دنیا کی سپر پاور طاقت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے ۔

        🔹 آج عالم اسلام میں نام نہاد قومی عصبیتوں کی وجہ سے اختلافات کی خلیج روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ، ہمارے مد مقابل کفر پر تول چکا ہے ، جو مسلمانوں میں قومیت ، لسانیت ، علاقائیت ، فرقہ واریت اور ثقافت کے نام پر تفرقہ کرنے میں مصروف عمل ہے ۔

        🔹 وطن عزیز کو دو لخت کرنے کے باوجود ہمارے مفادات آج بھی لسانی ، علاقائی اور نسلی عصبیت پر ہیں ۔ ہمارے دینی حلقوں میں مذہبی اختلافات و انتشار بڑھتا جارہا ہے ، ہمارے علماء ، فقہاء اور خطیب حضرات ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں ، اختلافی مسائل کو ہوا دینا ان کی قوت تقریر اور تحریر میں جلا بخشتا ہے ، ہمارے سیاستدان اقتدار کے لالچ میں اس قدر کھو چکے ہیں کہ وہ اعلیٰ مفاد کو اہمیت ہی نہیں دیتے ، ان کی نظر میں ملت اسلامیہ کے اقتصادی ، معاشی اور معاشرتی مسائل  کوئی حثیت ہی نہیں رکھتے اور ثقافت کے نام پر ایسے رسوم و رواج کو اسلامی معاشرے میں رائج کرتا ہے جس سے اسلامی ثقافت و معاشرت کی بنیاد متزلزل ہو رہی ہے ۔

        🔹 اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان یکجا اور اتحاد پر قائم رہے ، کبھی 313 اور کبھی خالد بن ولید ، عمر بن الخطاب ، امیر معاویہ رضی اللہ عنھم ، محمود غزنوی اور محمد بن قاسم رحمھم اللہ  کے سامنے صیہونی اور طاغوتی طاقتوں کو  گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔

        🔹 اگر ہم اسلاف کی یہ کھوئی ہوئی میراث واپس چاہتے ہیں تو ہمیں عرب وعجم کے اس خول کو ختم کرنا ہو گا ، فرقہ واریت ، قومیت ، علاقائیت اور نسل پرستی کے تمام خولوں کو ختم کرنا ہوگا ۔

             🔹 ہمیں اپنے اسلاف کی روایات پر عمل کرتے ہوئے وحدت کے رشتے میں منسلک ہوکر نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر کی ترجمانی کرنی ہوگی ۔

صرف کتاب وسنت کا راستہ ہمیں کامیابی کی منزل تک لے جائے گا ۔


✒️تحریر عمرفاروق قدوسی  متعلم الحکمۃ انٹرنیشنل

 الحکمہ انٹرنیشل لاہور ، پاکستان ، زندگی شعور سے


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...