Skip to main content

قانون ہاتھ میں مت لیجیئے،

 

قانون ہاتھ میں مت لیجیئے ،


تحریر:

نعمان عثمان متعلم الحکمۃ انٹرنیشنل



   

سیالکوٹ میں توہین رسالت کے الزام پر نجی فیکٹری راجکو انڈسٹری کے جنرل مینیجر پریانٹا کمارا کو تشدد کر کے ہلاک کردیا گیا    

قتل کے بعد نعش کو آگ لگا دی گئی۔

پریانٹا کمارا کا تعلق سری لنکا سے بتایا جاتا ہے۔

اگر کوئی ایسی حرکت کرتا بھی ہے تو قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں کہ لوگ خود سے ہی اس کے فیصلے کرنے لگ جائیں

باقاعدہ ایک قانون موجود ہے عدالتیں موجود ہیں

سزاوں کو نافذ کرنا عدالتوں کا کام ہے نا کہ عام افراد کا

اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرتا ہے کہ عدالتیں سزائیں نہیں دیتی ہیں

تو پھر ہمارا کام آواز بلند کرنا ہے ممکن حد تک کوشش کرنا ہے کہ ایسے لوگوں کو سزائیں ہونی چاہئے پھانسی ہونی چاہئے

لیکن ہر گز ایسا نہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی کسی کو گستاخی کے نام پر قتل کردے خود ہی فیصلہ صادر کردے

کوئی بھی بھنگی لٹیرا اٹھ کر کسی کو قتل کردیتا ہے،

 مقتول پر گستاخ رسول کا فتویٰ لگادیتا ہے

اور ہمارے دوست بھی دھڑا دھڑ شیئر کرکے بدبخت قاتل کو غازی اور ہیرو بنانے پر تل جاتے ہیں

سو جذباتی ہونے کے بجائے اسلام کی روشنی میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے

کہ قانون کو ہاتھ میں لینا جرم ہے چاہے وہ  کسی بھی سطح پر ہو بلکہ اس کی مذمت بھی کرنی چاہئے

اور یہ ثابت کرنا چاہئے کہ ہم عقیدہ و منہج کے تابع ہیں۔

 

سانحہ ـ#سیالکوٹ


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...