Skip to main content

تنہائی کے گناہ

 

 تنہائی کے گناہ

 :تحریر 

 اویس الرحمن متعلم الحکمۃ انٹرنیشنل



آج ہمارے ایمان کو انٹرنیٹ اور موبائیل کے ذریعے آزمایا گیا ہے، جہاں ایک کلک آپ کو وہ کچھ دکھا سکتا ھے جو ہم سے پہلے اباؤ اجداد ہیں نہیں دیکھ سکے۔              

 اکثر مسلم نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر خفیہ گروپ جوائن کیے ہوئے ہیں۔ جن سے برائی کا راستہ مزید ہموار ہوتا ہے۔

( یَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰہِ وَ ہُوَ  مَعَہُمۡ ) (النساء - 108)

" وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں  ( لیکن )  اللہ تعالٰی سے نہیں چھپ سکتے اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے"         

 ہمارے خلوت میں کیے ہوئے گناھوں کو صرف سچی توبہ ہی مٹا سکتی ہے۔       

تنہائی میں بھی ہماری آزمائش ہوتی ہے  (لیعلم اللہ من یخافه بالغیب) اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔         

یہ گناہ کرنے والے ہاتھ اور  آنکھیں ، سب ایک دن بول بول کر گواہی دیں گے ،،

( الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) (یسن – 165)

آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ھم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے"۔ "

دوران گناہ اگر ہوا کا جھونکا بھی دروازہ ہلا دے تو ہماری پوری ہستی ہل کر رہ جاتی ھے ،، کیوں ؟ رسوائی کا ڈر ،اس دن کیا ہو گا جب دنیا کائینات کے سب لوگ دیکھ رہے ہونگے، ان میں ہمارے بیوی بچے اور والدین بھی سامنے دیکھ رہے ہونگے اور دوست واحباب بھی موجود ہونگے، اس دن رسوائی کی کیا کیفیت ہو گی،،،،،؟

. اس متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث جس کو پڑھنے سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں

( عَنْ ثَوْبَانَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏  لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ،‏‏‏‏ بِيضًا،‏‏‏‏ فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا ،‏‏‏‏ قَالَ ثَوْبَانُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ صِفْهُمْ لَنَا،‏‏‏‏ جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏  أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ،‏‏‏‏ وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ،‏‏‏‏ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا ) (سنن ابن ماجہ-4245 )

" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذرے کی طرح بنا دے گا ، ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے اور کھول کر بیان فرمایئے تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ہم ان میں سے نہ ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں، اور تمہاری قوم میں سے ہیں، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے، جیسے تم عبادت کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے         ،،

آج بھی ہم سچی توبہ اور آئندہ سے پرہیز کا عزم کر لیں تو  ہمارے  پچھلے کیے ہوئے گناہ معاف ہوسکتے ہیں اور ہم اس رسوائی سے بچ سکتے ہیں۔             

خلوت کے گناہ انسان کے ایمان پختہ نہیں ہونے دیتے بلکہ متزلزل کر کے رکھ دیتے ہیں. اس سے انسان کے معاملات میں شفافیت نظر نہیں آتی۔ اللہ تعالی سے  دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ ہمارے باطن کو ظاہر سے بھی اچھا کردے۔ جہاں کہیں بھی ہوں ہمیں اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا چاہیے۔

اللہ تعالی ہمیں ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھے۔ ( آمین )

 

️ - اویس الرحمن متعلم الحکمۃ انٹرنیشنل

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...