کیا جہاد کا مطلب مقدس جنگ (Holy war) ہے؟
عربی
زبان کے لفظِ جہاد کا مطلب جنگ (War) نہیں
ہے۔ مقدس جنگ (Holy war) کی
اصطلاح صلیبی جنگوں کے دوران سامنے آئی تھی۔
یہ اصطلاح باوردی مسلح لوگوں کے لیے
بولی جاتی ہے۔ یعنی اس کی بنیادیں مسیحیت میں ہیں۔ جبکہ ’جہاد‘ کی اصطلاح عربی
ہے۔ اس سے مراد کوشش اور جدوجہد کرنا ہے۔
اس کے کئی پہلو ہیں۔
1 ۔
جہاد سے مراد تزکیہ نفس اور اصلاح ذات کی کوشش کرنا ہے۔ اس لحاظ سے یہ لفظ انسان کی اندرونی جدوجہد کے لیے استعمال کیا
جاتا ہے۔ یہ وہ جدوجہد ہے جو انسان اپنے
نفس کی ناجائز خواہشات کے خلاف کرتا ہے۔
اس کا مقصد اللہ کی قربت ہوتا ہے۔
2 ۔
جہاد سے مراد ایک عادلانہ مسلم معاشرے کے قیام کی جدوجہد کرنا ہے۔
3 ۔
جہاد سے مراد مسلح اور عسکری جدوجہد ہے۔
یہ
مسلح جدوجہد دفاعی اور اقدامی ہر دوصورت میں ہوسکتی ہے۔ جب کسی مسلم معاشرے کا جان
و مال خطرہ میں ہو۔ اس کی زمین ہتھیالی جائے۔ اس وقت مسلمانوں کی جان و مال اور جائیداد کے تحفظ کے
لیے جو جدوجہد کی جاتی ہے اسے جہاد کہا جاتا ہے۔ یہ دفاعی جہاد ہے۔
جب
مسلمان اسلامی نظام کے قیام اور اسلامی
دعوت کے لیے رکاوٹ بننے والے لوگوں کے خلاف لڑیں تو اس جدوجہد کو اقدامی جہاد کہا جاتا ہے۔
واضح رہے اسلام پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے۔ یہ انسانوں کو پتھروں اور انسانوں کی پرستش سے نکال کر حقیقی خدا کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔ یہ انسانیت کو معاشرتی ظلم و ستم سے نکالتا ہے۔ یہ لوگوں اور قوموں کے مظالم سے چھٹکارہ دیتا ہے۔ مساوات اور عدل کی دعوت دیتا ہے۔ایک دفعہ اپنے پیغام تک ہر ایک کی رسائی ممکن بناتا ہے۔ اس کے بعد کسی کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ یہ لوگوں کی رضا پر چھوڑ دیتا ہے
Comments
Post a Comment