نفاق اور اس کی صورتیں
ازقلم : سیف الرحمٰن
نفاق کی تعریف
لغۃ:
لفظ نفاق، نَافَقَ کا مصدر ہے۔ کہا جاتا ہے:
نَافَقُ یُنَافِقُ نِفَاقًا وَ مُنَافَقَۃ۔ یہ نافقاء سے ماخوذ ہے۔ نافقاء چوہے کی
بِل کے ایک خاص سوراخ کو کہا جاتا ہے۔ چوہا خطرے کے وقت اس مخفی اور خاص سوراخ سے
نکل کر بھاگ جاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لفظ نفاق، نَفَق سے ماخوذ ہے۔ نَفَقَ
کا مطلب سرنگ ہے، جس میں انسان چھپ جاتا ہے۔ (ابن الاثیر، النہا یۃ: ۵/ 98 مفہوم)
اصطلاحاً:
شرعی اصطلاح میں نفاق کا مطلب ہے، اسلام کا
اظہار و اقرار کرنا اور کفر و شرک کو مخفی رکھنا۔ اس عمل کو نفاق اس لیے کہا جاتا
ہے کیونکہ ایسا آدمی اسلام میں ایک دروازے سے د اخل ہوکر دوسرے سے نکل جاتا
ہے۔
آسان
الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ظاہر اور باطن کا اختلاف نفاق کو جنم دیتا ہے
۔نفاق کی دو اقسام ہیں: عملی اور نظریاتی۔
عملی نفاق :
قول
اور فعل کے تضاد کو عملی نفاق کہتے ہیں۔
مندرجہ ذیل حدیث میں نفاق کی اسی صورت کو بیان کیا گیا ہے ۔ آنحضرتﷺ کا یہ
فرمان ہے:
{{أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ
مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ
خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا
حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ}} (صحیح البخاری:
34 و صحیح مسلم: 58)
”چار چیزیں جس بھی آدمی میں ہوں گی وہ پکا
منافق ہو گا، جس میں ان چار میں سے ایک چیز ہو گی اس میں نفاق کی ایک عادت ہو گی یہاں
تک کہ اسے چھوڑ نہ دے۔ وہ چار یہ ہیں:
1:جب بھی اس کے پاس امانت رکھی جائے اس میں خیانت
کرے۔
2:جب بھی بات کرے جھوٹ بولے۔
3: جب بھی عہد و پیمان کرے اسے پورا نہ کرے
4: جب بھی لڑائی جھگڑا کرے گالی گلوچ
کرے۔
نظریاتی نفاق:
نظریاتی
نفاق یہ ہے کہ بظاہر تو انسان اللہ، رسول اور اسلام کا نعرہ بلند کرتا ہے لیکن دل
میں کسی خاص نظریے ، فلسفے یا نظام حیات کے متعلق نرم گوشہ رکھنا ، بظاہر تو انسان
اپنے آپ کو مسلمان کہے لیکن دل سیکولرزم کی طرف مائل ہو ، بظاہر تو انسان اللہ اور
اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرے
لیکن دل کیپیٹلزم اور کیمونزم کی طرف لپکے ، بظاہر تو انسان اللہ اور اس کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار کرے لیکن دل یورپ و امریکہ سے اٹھنے والے فلسفوں کی طرف مائل ہو۔
اقبال اس رویے کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
تو
بھی شیوہ ارباب ریاء میں کامل
دل میں
لندن کی حوس لب پہ تیرے ذکر حجاز
یہ
مسلم اسکالرز اور علماء کی نادانی ہے کہ انہوں نے اپنی ساری قوتیں اور وسائل عملی
نفاق پہ صرف کر دیے جب کہ نظریاتی نفاق سے
چشم پوشی کا مظاہرہ کیا ۔ حقیقت حال یہ ہے کہ
موجودہ مسلم دنیا کا بہت بڑا مسئلہ نظریاتی نفاق ہے۔ محدثین
کی کتابوں میں "اعتقادی نفاق" کی جو اصطلاح ہمیں ملتی ہے در اصل یہی
"نظریاتی نفاق" ہے ۔ افسوس اس
بات کا ہے کہ ہم نے اسلاف کی شب و روز کی محنتوں کو اپنی مسلکی اختلافات اور خواہش
پرستی کی بھینٹ چڑہا دیا۔
Comments
Post a Comment