اسلام اور کیپیٹلزم معاشی نظام کے تناظر میں
از قلم : حماد خالد
کیپیٹلزم فیوڈلزم کا رد عمل ہے ۔ کیپیٹلزم کا رجحان انفرادی ملکیت
کی جانب ہے ۔ سود اس نظام کی بنیادی اکائی
ہے ، جس سے دولت سمٹ کر چند ہاتھوں تک
مرتکز ہو جاتی ہے ۔ کیپیٹلسٹ معاشرے میں ایک
طبقہ تو امیر سے امیر تر ہوتا جا تا ہے
اور دوسرا طبقہ غریب سے غریب تر ہوتا جاتا ہے ، جس کے نتیحے میں طبقاتی کشمکش وجود
میں آتی ہے ۔ جب کہ اسلامی کا معاشی نظام
نجی ملکیت کے خاتمے کا قائل نہیں ہے بلکہ چند حدود و قیود کے ساتھ نجی ملکیت کو
تحفظ دیتا ہے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جس شخص نے کسی بنجر زمین کو آباد کیا تو وہ زمین اسی کی
(نجی) ملکیت ہے "(رواہ ابوداؤد)
اس حدیث میں اسلام نے عادلانہ طور پر نجی ملکیت کو تحفظ دیا ہے
۔ لیکن اس کے ساتھ اسلام نے چنداصلاحات متعارف کی ہیں تاکہ دولت چند ہاتھوں
میں مرتکز ہونے کی بجائے معاشرے میں گردش کرتی رہے ۔ وہ اصلاحات مندرجہ ذیل ہیں:
: 1ایسے
وسائل اختیار کرنے کا حکم دیا جو حلال اور طیب ہوں ۔ حلال اور طیب وسائل کے بدلے میں اجر عظیم کی خوشخبری بھی سنائی ۔ اللہ تعالی نے
فرمایا:
"تم لوگ اللہ تعالی کہ دیے ہوئے حلال اور پاکیزہ رزق میں سے
کھاؤ"۔( سورۃ المائدۃ آلایۃ: 88)
: 2اسلام نے قانون وراثت جاری کیا ، تاکہ دولت چند ہاتھوں مرتکز
ہونے کی بجائے آنے والے لوگوں تک پہنچتی رہے جیسے کہ
فرمان باری تعالی ہے: ۔
اللہ
تعالی تمہاری اولاد کہ بارے میں تمہیں حکم دیتا ہے (وراثت کو تقسیم کرنے کا)" ( سورۃ النساء
الایۃ:11)
: 3اسلام نے زکوۃ کا نظام متعارف کروایا اور اس کے مختلف مصارف بیان کیے ہیں ۔ جب زکوۃ
کو اس کے مصارف تک پہنچایا جائے گا تو سرمایہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے کی بجائے
گردش کرتا رہے گا ۔ رسولﷺ نے فرمایا:
" اللہ
تعالی نے لوگوں پر ان کہ ا موال میں زکاۃ کو فرض کردیا ہے" (رواہ البخاری)
اسلام
نے زکوۃ کو مال کی پاکیزدی کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔زکوۃ ادا نہ کرنے والے کے لیے سزا بیان کی ہے ۔ رسول اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے اللہ نے مال دیا
اور اس نے اس کی زکوٰۃ نہیں ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال نہایت زہریلے گنجے
سانپ کی شکل اختیار کر لے گا۔ اس کی آنکھوں کے پاس دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ جیسے سانپ
کے ہوتے ہیں ‘ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑ لے گا اور کہے گا کہ میں
تیرا مال اور خزانہ ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اور وہ
لوگ یہ گمان نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس پر
بخل سے کام لیتے ہیں کہ ان کا مال ان کے لیے بہتر ہے۔ بلکہ وہ برا ہے جس مال کے
معاملہ میں انہوں نے بخل کیا ہے۔ قیامت میں اس کا طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈالا
جائے گا۔“ {صحیح البخاری : 1403}
: 4سب
سے بڑی چیز جو گردش دولت کے رستے میں رکاوٹ اور دولت کے چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے
کا سبب بنتا ہے وہ سود ہے ۔ اسلام نے سود کو کلی طور پہ حرام اور ممنوع قرار دینے
کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالی نے سود کو حرام قرار دیدیا ۔فرمان ربانی ہے:
"اللہ تعالی نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے " (سورۃ البقرۃ الایۃ:275)
: 5نفلی زکوۃ و خیرات کی ترغیب دی ہے ۔ دنیا و آخرت میں کامیابی
اور مال کی بڑہوتری کا ذریعہ قرار دیا ہے ، تاکہ معاشرے کے صاحب ثروت لوگ نادار
اور غرباء پہ خرچ کرتے رہیں۔ اس سے دولت چند ہاتھو ں میں مرتکز ہونے کی بجائے
گردش کرتی رہے گی ۔
Comments
Post a Comment