Skip to main content

اسلامی ضابطہ حیات

 

 

اسلامی ضابطہ حیات

از قلم : نعمان عثمان


                                                                                                        اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔جو زندگی کے تمام معاملات میں بنی نوع انسان کی رہنمائی کرتا ہے ۔

انسانی زندگی کے دو حصے ہیں:

  انفرادی اور اجتماعی ۔

                انفرادی زندگی میں عقائد ، رسومات اور عبادات شامل ہیں ، جب کہ اجتماعی زندگی میں سیاست، معیشت اور معاشرت شامل ہیں ۔ اسلام انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔

  جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدہ :3)

                "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت مکمل کر دی اورر اسلام کو تمہارے لیے بطور دین پسند فرمایا"

اللہ تعالی کا ہم سے مطالبہ بھی یہی ہے کہ ہم  زندگی کے تمام پہلووں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کریں ۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ( البقرۃ:208)

"اے لوگو۱ جو ایمان لائے ہو پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہو جاو ، شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو ۔ یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے "

                بعض اسلامی تعلیمات پہ عمل پیرا ہونا اور بعض اسلامی تعلیمات کو چھوڑ دینا ، یہ ایک ایسا رویہ ہے جو مسلمانوں کی پستی اور ذلت کا سبب بنا ہے ۔ موجودہ مسلم دنیا کے تمام مسائل کی جڑ یہی رویہ ہے ۔ جب کہ اللہ تعالی نے بھی ہمیں اس رویے سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔

جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

أفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ( البقرۃ: 85)

                " تو کیا تم کتاب کے بعض حصے پہ ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ، تم میں سے جو بھی ایسا رویہ اختیار کرے گا  اسے دنیا میں ذلت کا سامنہ کرنا پڑے گا  اور قیامت والے دن انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا  اور اللہ تمہارے عملوں سے غافل نہیں ہے "

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...