اللہ تعالیٰ پر لفظ قدیم کا اطلاق اور جدید اصطلاحات:
از قلم : استاذ عبد الحنان کیلانی
عقیدہ طحاویۃ
کی عبارت ہے قَدِيمٌ بِلَا ابْتِدَاءٍ، دَائِمٌ بِلَا
انْتِهَاءٍ شرح الطحاوية - ط دار السلام (ص: 111) یہ
تو واضح ہے کہ لفظ قدیم اسمائے حسنی میں شامل نہیں۔ لیکن صفات الٰہی کے لیے اس لفظ
کے استعمال کا اس وقت مسئلہ بنا جب اسلامی متکلمین نے فلسفہ یونان سے متاثر ہوکر
فلسفیانہ نظریات، اصول اور اصطلاحات کے مطابق اسلامی مابعد الطبعیات کی تشریح کرنا
شروع کردی۔ تب متکلمین کی طرف سے داخل کردہ من جملہ اصطلاحات کی طرح لفظ قدیم بھی
زیربحث آیا۔ یہ اور اس طرح کی اصطلاحات کے بارے میں ممکنہ طورپر تین طرح کے رویے
ہو سکتے تھے۔
ایک مطلق استرداد دوسرا مطلق قبول اور تیسرا یہ
کہ ایسی اصطلاحات کے مفاہیم کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے ایسے اجزا کو لے لیا جائے جو
صحیح اسلامی تصورات کے مطابق ہوں اور انہیں مسترد کردیا جائے جو صحیح اسلامی
تصورات سے ہم آہنگ نہ ہوں۔ چنانچہ اسلاف نے اس تیسرے رویے کو ترجیح دی۔ جیسا کہ عقیدہ
طحاویۃ کی نقل کردہ عبارت اس کی نشاندہی
کرتی ہے۔ اس وقت کی جدید اصطلاحات کے بارے میں یہی رویہ دیگر کبار سلفی علماء کی
طرف سے نظر آتا ہے۔
چنانچہ
دورجدید کا سب سے بڑا چیلنج مغربی فکر و فلسفہ ہے۔ جس میں مغرب کے مختلف نظریات
شامل ہیں۔ جنہوں نے براہ راست انسانی سماج کو شدت کے ساتھ متاثر کیا ہے۔ جیسے
جمہوریت، قومیت، انسانیت وغیرہ ہیں۔ فلسفہ یونان کے بالمقابل اسلاف کے رویے سے یہی
تعین ہوتا ہے کہ فلسفہ مغرب کے باالمقابل بھی یہی رویہ رکھا جائے۔ مغرب کے ان
تصورات میں ایسے پہلووں کو لے لیا جائے جو کتاب و سنت کے مطابق یا کم از کم منافی
نہیں اور انہیں مسترد کردیا جائے جو کتاب و سنت کے مخالف و منافی ہیں۔ جیسے کہ کہا
جاتا ہے خذ ما صفا، دع ماکدر۔
مزید
برآں یہی درمیانہ اور اعتدال پسندانہ رویہ ہے۔ دیگر دونوں رویے انتہا پسندانہ
محسوس ہوتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالٰ کے محل حوادث ہونے کے مسئلہ پر بھی ابن تیمیہ
رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی بحث کا نقطہ آغاز یہی متعین کیا ہے کہ اس کا ایک مثبت
پہلو اور دوسرا منفی پہلو ہے۔ تفصیل کے لیے شرح عقیدہ طحاویۃ کو دیکھا جاسکتا
ہے۔ چنانچہ ہمیں مثبت کو لے لینا چاہیے
اور منفی کو ترک کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔
Comments
Post a Comment