Skip to main content

تزکیہ نفس اور اس کی صورتیں

 

تزکیہ نفس اور اس کی صورتیں

از قلم: سمیع اللہ


 

                تزکیہ نفس سے مراد نفس انسانی کو ایسے تمام معیوب  اور مشکوک امور سے بچا کر رکھنا، جنہیں  قرآن اور حدیث میں معیوب کہا گیا ہے  اور ایسے تمام اچھے اور نیکی  کے امور بجا لانا جنہیں قرآن اور حدیث میں نیکی کہا گیا ہے ۔  دوسرے لفظوں میں تزکیہ نفس سے مراد انسانی رویوں میں بہتری اورکانٹ چھانٹ کا نام ہے۔

                انسانی زندگی خیر اور شر کا مرکب ہے ۔ یہ خیر اور شر انسان کی ذات یعنی انفرادی زندگی تک بھی ہیں اور اجتماعی سطح پہ بھی ہیں۔ بعض خوبیاں  اور خامیاں صرف انسان کی ذات کو متاثر کرتی ہیں  ، جب کہ بعض خوبیاں اور خامیاں نظاموں کی شکل میں پورے معاشرے پر اثر اندوز  ہوتی ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

                ’’پس (اﷲتعالیٰ) نے نفس انسانی کے اندر برائی او ر اچھائی دونوں کا شعور ودیعت کردیا ہے۔‘‘{ الشمس:  91 }

مذکورہ بالا قضیہ سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جب خیر اور شر کی قوتیں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پہ موجود ہیں  تو تزکیہ نفس کی ضرورت بھی انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پہ موجود ہے ۔  موجودہ مسلم دنیا کے تمام مسائل کا حل اسی بات  میں پوشیدہ ہے کہ فرد کو اللہ  اور اس کے رسول کے ساتھ جوڑا جائے ، اس کے دل سے دیگر نظریات و افکار کو نکال  کر اللہ اور اس کے رسول کی محبت داخل کر دی جائے ،وہ اپنے نفس کو تمام برائیوں سے پاک کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع فرمان بن جائے، وہ  بدعات و خرافات  اور دنیا جہاں کے دیگر فلسفوں کو چھوڑ کر قرآن اور حدیث کو اپنی زندگی کا آئین اور قانون تصور کرے ۔

                اجتماعی سطح پہ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ ہم  بحثیت قوم عقلی و وضعی نظاموں کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کے نظام کو اپنا نظریہ حیات بنائیں۔ ہم کیپیٹلزم اور کیمونزم کی جکڑبندیوں سے نکل کر اسلام کے نور سے منور ہوں ، ہم وطنیت   اور قومیت کے بتوں کو توڑ کر اسلام کو اپنے دامن میں سمیٹ لیں،  ہم رنگ و نسل کی حد بندی سے نکل کر اسلام کے پرچم تل جمع ہو جائیں۔

                اگر انفرادی اور اجتماعی سطح پہ اس طرح تزکیہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یقینا ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ٹھہریں گے ۔  اللہ تعالی نے اپنے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا۔

" تحقیق فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا"،

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...