اچھائی اور برائی
کا تعین کیسے ممکن؟
ازقلم: اویس الرحمن
اسلام
نے خیر اور شر کے پیمانوں کا تعین کر دیا ہے ۔ یہ پیمانے تاقیامت موجود رہیں گے،
جب کہ مغرب کے ہاں خیر اور شر کے کوئی پیمانے یا اقدار مستقل نہیں ہیں ۔
عَنْ
النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ
حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ
عَلَيْهِ النَّاسُ( الصحیح المسلم: رقم الحدیث 6516)
"نواس بن سمعان انصاری رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : نیکی
اچھا خلق ہے ، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں
کو اس کا پتہ چلے۔"
حسن
خلق سے
مراد عام طور پر یہ لیا جاتا ہے کہ لوگوں سے اچھا برتاؤ کیا جائے، کھلے
چہرے اور میٹھی زبان کے ساتھ ملاقات کی جائے، سختی اور ترش روی سے پرہیز کیا جائے۔
مگر یہ ایک محدود مفہوم ہے حقیقت یہ ہے کہ حسن خلق اللہ تعالی کے تمام احکام کو اس
طرح اوڑھنا بچھونا بنا لینے کا نام ہے کہ وہ آدمی کی پیدائشی عادت کی طرح بن جائیں
اور کسی مشقت کے بغیر خود بخود ادا ہوتے چلے جائیں۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا:
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ ( سورۃ القلم)
"یقیناً آپ عظیم خُلق پر ہیں"
سعد بن ہشام بن عامر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی
اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے
متعلق بتائیں تو انہوں نے فرمایا کہ تم
قرآن نہیں پڑھتے؟ عرض کیا کیوں نہیں۔ فرمایا:
َإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآن
" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن مجید ہی
تھا "
یعنی آپ نے قرآن کے آداب اس طرح اختیار کر لیے
تھے کہ اس کے احکام پر عمل کرتے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے تھے۔ حسن خلق کے اس مفہوم میں ارکان اسلام، حقوق اللہ، حقوق
العباد، صبر، شکر، وفائے عہد، صدق، امانت، عدل، صدقہ، جہاد، احسان وغیرہ سب شامل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برائی کی دو
علامتیں بیان فرمائی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ سینے میں کھٹکتا ہے۔ آدمی کو اس پر تسلی
نہیں ہوتی ایک خیال یہ آتا ہے کہ یہ کام کرلوں اس کی صاف ممانعت تو کہیں نہیں ملتی،
دوسرا خیال آتا ہے کہ نہیں یہ کام اچھا نہیں اس پر اللہ تعالی ناراض ہوں گے، لوگوں
میں بدنامی ہوگی۔ یہ کیفیت انسان کو بے چین رکھتی ہے، اسی کا نام گناہ ہے۔ حسن بن
علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ
حدیث ہے حفظ کی:
دَعْ
مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ سنن النسائی: ( رقم الحدیث 5714)
"جو
چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ
ڈالے"
گناہ
کے دوسری علامت یہ بیان فرمائی کہ تمہیں یہ بات نا پسند ہو کہ لوگوں کو اس کام کا
علم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ سبھی لوگوں کا کسی چیز کو برا جاننا اس بات کی علامت ہے کہ
وہ کام برا ہے۔ اس لیے آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے اچھے کام لوگوں کو معلوم ہو
اور برے کام معلوم نہ ہو۔اللہ تعالی ہمیں تمام برائیوں سے محفوظ رکھے اور اچھے
اعمال کرنےکی توفیق دے۔ ( آمین )
الحکمةانٹرنیشنل لاہور پاکستان ،زندگی شعور سے
Comments
Post a Comment