مجسمے نصب کرنے کی
شرعی حیثیت
از قلم : سمیع اللہ
اسلام
نے زندگی کے تمام شعبوں میں احکا مات اور اصولوں و ضوابط دیے ہیں ۔ اسی طرح مجسمے یا تصویریں نصب کرنے کے متعلق بھی
قرآن و حدیث میں واضح احکامات موجود ہیں ۔
جب اسلام نے بنیادی طور پہ مجسمہ
سازی سے ہی منع کر دیا ہے تومجسمہ نصب کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے ؟علماء
کرام نے مجسمہ سازی سے ممانعت کی دو
وجوہات بیان کی ہیں :
1: اللہ کی تخلیق سے مشابہت
2: تصویر کی
پوجا کرنے والے مشرکوں سے مشابہت
ذیل
میں ہم کئی ایک مثالیں بیان کرتے ہیں ، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اور
آپ کے صحابہ رضی اللہ عنھم نے نصب کیے گئے مجسموں کو گرایا اور انہیں توڑنے کا حکم دیا۔
فتح
مکہ کے موقع پہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے بتوں کو پاش پاش کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی
اس مہم پر روانہ کیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس مہم پر ابوالہیاج اسدی
رحمہ اللہ کو روانہ کیا۔ مجسمے نصب کرنا دورِ جاہلیت کا طریقہ ہے جب کہ
انہیں پاش پاش کرنا اللہ تعالی کا حکم ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت ہے۔ جسے اللہ تعالی نے طاقت اور اختیار دیا ہے
اسے چاہیے کہ وہ اس فریضے کو انجام دے۔ عوام الناس کو فتنے اور فساد سے بچنا چاہیے۔
صحیح
مسلم (969) کی حدیث ہے، ابو الہیاج اسدی بیان کرتے ہیں: مجھے سیدنا علی رضی اللہ
عنہ نے فرمایا:
أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَىٰ مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ
اللهِ صلي الله عليه و سلم: «أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ، وَلَا
قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ.
’’میں
تمہیں ایسے کام کے لیے نہ بھیجوں جس کے لیے مجھے نبی صلی الله علیہ و سلم نے بھیجا
تھا کہ تم کسی مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے
ختم کر دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے برابر کردینا۔‘‘
🌏الحکمۃ انٹرنیشنل لاہور، پاکستان، زندگی شعور سے
Comments
Post a Comment