Skip to main content

اسلامی تصور عبادت 40


اسلامی تصور عبادت

از قلم: سیف الرحمٰن 



                عبادت کیا ہے ؟ یہ موجودہ دور کا ایک اہم سوال ہے ۔ہم میں سے اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ عبادت صرف نماز ، روزے وغیرہ کا نام ہے ۔ در حقیقت یہ عبادت کا ایک ناقص تصور ہے ۔اسلامی تصور کے مطابق عبادت پوری انسانی زندگی کو محیط ہے ۔ اسی سلسلہ میں امام ابن تیمیہ سے سوال کیا گیا کہ عبادت کیا تو آپ رحمہ اللہ نے یہ جواب دیا تھا :

الْعِبَادَة هِيَ اسْم جَامع لكل مَا يُحِبهُ الله ويرضاه من الْأَقْوَال والأعمال الْبَاطِنَة وَالظَّاهِرَة. فَالصَّلَاة وَالزَّكَاة وَالصِّيَام وَالْحج وَصدق الحَدِيث وَأَدَاء الْأَمَانَة وبرّ الْوَالِدين وصلَة الْأَرْحَام وَالْوَفَاء بالعهود وَالْأَمر بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْي عَن الْمُنكر وَالْجهَاد للْكفَّار وَالْمُنَافِقِينَ وَالْإِحْسَان للْجَار واليتيم والمسكين وَابْن السَّبِيل والمملوك من الْآدَمِيّين والبهائم وَالدُّعَاء وَالذكر وَالْقِرَاءَة وأمثال ذَلِك من الْعِبَادَة.

وَكَذَلِكَ حب الله وَرَسُوله وخشية الله والإنابة إِلَيْهِ وإخلاص الدَّين لَهُ وَالصَّبْر لحكمه وَالشُّكْر لنعمه وَالرِّضَا بِقَضَائِهِ والتوكل عَلَيْهِ والرجاء لِرَحْمَتِهِ وَالْخَوْف من عَذَابه وأمثال ذَلِك هِيَ من الْعِبَادَة لله.

                اگر ہم ا س عبارت کی تفہیم چاہیں تو ہمارے سامنے مندرجہ ذیل پہلو واضح ہوتے ہیں:

                "عبادت ایک جامع لفظ ہے ،جو انسان کی  انفرادی اور اجتماعی زندگی کےہر اس  ظاہری و باطنی  اقوال و افعال پہ مشتمل ہے ، جسے اللہ تعالی پسند کرتے ہیں اور اس سے راضی ہوتے ہیں ۔ جیسے نماز ، روزہ ، حج ، سچی بات ، امانت داری ، والدین سے حسن سلوک ، صلہ      رحمی ، وعدہ پورا کرنا ،نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ،کفار اور منافقین سے جہاد کرنا ، پڑوسی ، یتیم ، مسکین ، مسافر، غلام اور  چوپاوں  سے حسن سلوک کرنا، دعا ، ذکر ، قراءت  اور اس طرح کی دیگر چیزیں عبادت میں شامل ہیں ۔

                اسی طرح اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنا ، اللہ تعالی سے ڈرنا ، اس کی طرف رجوع کرنا ، اخلاص، صبر ، حکمت، اس کی نعمتوں پہ شکر ، اس کے فیصلوں پہ راضی ہوں ، توکل ، اس کی رحمت کی امید ، اس کے عذاب سے ڈرنا  اور اس طرح کی دیگر چیزیں بھی عبادت تصور کی جائیں گی "

                ان مثالوں میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مکمل انسانی زندگی کو بیان کر دیا ہے ۔ جس طرح حقوق اللہ عبادت ہیں ، اسی طرح حقوق العباد بھی عبادت ہے ۔جس طرح نماز روزہ عبادت ہیں ، اسی طرح سیاست و معیشت بھی عبادت ہیں ۔ بطور مسلمان ہمارے کیے گئے وعدے بھی عبادت ہیں ، چاہے وہ وعدے ہم کسی ایک انسان سے کریں یا اجتماعی سطح پہ وعدے کریں ۔ اسلام کے              مطابق تو انسان کا روزی کمانا ، سونا ،جاگنا  ، کھانا کھانا الغرض پوری انسانی زندگی عبادت تصور کی جائے گی ۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:

وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ

                "تو اللہ کی رضاء کے لیے جو بھی خرچ کرے گا اس پہ اجر دیا جائے گا ، حتی کہ وہ لقمہ بھی جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے "

                لیکن یہ تمام اعمال عبادت کس وقت تصور کیے جائیں گے ؟ جب ان میں تین شرائط مکمل طور پہ پائی جائیں۔ ایمان ، رضاء الہی اور طریقہ نبوی ۔ جب کسی بھی عمل میں یہ تینوں شروط پائی جائیں گی اس وقت وہ عمل عبادت تصور کیا جائے گا۔ اللہ تعالی ہمیں اسلام پہ چلنے اور صحیح طور پہ سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین

 

 

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...