Skip to main content

عالم اسلام کی فکری کشمکش


                                                                عالم  اسلام کی فکری کشمکش


ازقلم: بدر عکاشہ، ریسرچ  سکالر الحکمۃ انٹرنیشنل  




                                                                اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، جو زندگی کے تمام پہلووں  میں انسانیت کی راہنمائی کرتا ہے ۔اللہ تعالی کا ہم سے مطالبہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالیں ۔بدلہ میں اللہ تعالی ہمیں دنیا کی صیادت ، حکمرانی  اور غلبہ عطاء کرے گا۔تاریخ شاہد ہے جب مسلمان نے اسلام پہ من و عن عمل کر کہ دکھایا تو اللہ تعالی نے انہیں دنیا میں غلبہ و حکمرانی عطاء کی ، بڑی بڑی طاقتوں کو ان کے سامنے زیر کر دیا ۔

                                                                لیکن گزشتہ دو ، تین سو سال سے مسلمان اپنے غلبے اور طاقت کو کھو چکے ہیں ، اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اسلام کو بحثیت نظام اپنی زندگیوں سے نکال دیا ہے ۔ موجودہ مسلم دنیا کے حکمران  دین اور سیاست میں تفریق کے قائل ہیں، وہ اسلام کو صرف مسجد تک محدود کر دینا چاہتے ہیں ،  وہ سیکولر طرز فکر و عمل  کو پسند کرتے ہیں ، اپنی معیشت میں وہ کیپیٹلزم اور کیمونزم کی طرف مائل ہیں ، معاشرت میں وہ تہذیب مغرب کے رسیا ہیں اور وہ اسلام کی نظام کی بجائے انگریزی نظام کے حامی ہیں ۔

                                                                ان حکمرانوں نے اسلام کومحض انفرادی زندگی تک محدود کر دیا ہے ، جب کہ انہی مسلم ممالک کی اکثر عوام اسلامی نظام کی حامی ہے ۔وہ اپنی سیاست و معیشت میں اسلامی نظام  کو دیکھنا چاہتے  ہیں ، جب حکمران کسی اور نظام کو پسند کرتے ہوں اور  عوام کوئی اور نظام چاہتے ہوں تو اسی چیز کا نام فکری انتشار  یا فکری کشمکش ہے ۔

                                                                موجودہ عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے ۔ عالم اسلام کی ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ بھی یہی رویہ ہے ۔عالم اسلام کے تما م مسائل کا حل اور ترقی کا  راز اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ اس فکری انتشار کو ختم کیا جائے  اور اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پہ تسلیم کرنے کے ساتھ   بحثیت نظام اپنی زندگیوں میں نافذ کیا جائے ۔  اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کوئی شخصیت ، کوئی فکر یا کوئی نظریہ حیات ہمارا آئیڈیل نہ ہو ۔  اسی فکری انتشار کا خاتمہ ہی ہمیں غلبہ اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ

                                                                میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، جب تک ان کو تھامے رکھوگے اس وقت تک گمراہ نہیں ہو گے : ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ۔

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...