Skip to main content

بقاء اور استقرار کا اصول

 

 

بقاء  اور استقرار کا اصول

از قلم :

سیف الرحمٰن  ریسرچ سکالر الحکمۃ انٹرنیشنل ،لاہور




كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ

                                                                مندرجہ بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے ہمیں ایک اصول دیا ہے کہ جو چیز بے فائدہ ہوتی ہے وہ  باقی نہیں رہتی اللہ تعالی اسے ختم  کر دیتے ہیں ۔جو چیز نفع مند اور فائدے  والی ہوتی ہے اللہ تعالی اسے باقی رکھتے ہیں۔ یہ اصول فر د اور اجتماع دونوں پہ لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی فرد اپنی صلاحیتوں  کے ذریعے لوگوں کو فائدہ دیتا ہے تو اللہ اسے استقرار دیتے ہیں ۔

                                                                فرد اپنی صلاحیتوں کے ذریعے کس طرح لوگوں کو فائدہ دے سکتا ہے ؟ اس کا بہترین عملی نمونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے ۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے الفاظ جو انہو ں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہے تھے  ۔

كَلَّا، أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ،

"اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو کنبہ پرور ہیں، آپ توہمیشہ سچ بولتے ہیں ، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔"

                                                                لوگوں کو فائدہ دینے کے اعتبار سے ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں ہے،اور نہ ہی موجودہ دور کے ادارے ، این جی اوز اور فلاحی جماعتیں  لوگوں کی مدد کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی اوصاف تلاش کر سکی ہیں ۔

                                                                یہ تو فرد کی بات تھی اگر ہم اجتماع کی بات کریں تو اس کے متعلق بھی اللہ تعالی کا طریقہ یہی ہے کہ جو نظام یا تہذیب جتنا ذیادہ لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا ، اللہ تعالی اسے باقی رکھیں گے۔اگر ہم موجودہ مغربی تہذیب اور نظاموں کی بات کریں توانہوں نے لوگوں کے ساتھ سراسر نا انصافی اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں ۔کیپیٹلزم کو لیجئے یہ نظام فرد کو تو اہمیت دیتا ہے لیکن معاشرے کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس نظام میں دولت چند ہاتھوں تک سمٹ کر رہ جاتی ہے  او ر پورا معاشرہ چند سرمایہ داروں کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر ہم کیمونزم کا جائزہ لیں تو مزدور طبقے کو اس نظام نے بے تحاشہ سبز باغ دکھائے ، یہ نظام معاشرے کو تو اہمیت دیتا ہے لیکن فرد کو سرے سے ہی نذر انداز کر دیتا ہے ۔ جب کہ اسلام وہ واحد ضابطہ حیات ہے جو فرد اور معاشرہ دونوں کو اہمیت دیتا ہے ۔

                                                                مغرب نے دنیا کو رنگ ، نسل ، علاقہ اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کر دیا ہے ۔نیشنلزم اور پیٹریوٹزم اسی تقسیم کا نتیجہ ہیں ۔  دنیا کی ایک بیشتر آبادی کو کالے رنگ ہونے کی وجہ سے وسائل ، سوشل  ریسپیکٹ اور حقوق سے محروم رکھا گیا ، انہی بنیادوں پہ دنیا میں دو سو ممالک  وجود میں آگئے ۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ یہ تقسیم دو عظیم جنگوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ، کئی چھوٹے ممالک آپس میں لڑے  ،اسلحہ سازی کو فروغ ملا  اور دنیا  فساد اور میدان جنگ بن گئی ۔

                                                                خلاصہ بحث یہ ہے کہ  مغربی  نظام اور تہذیب انسانیت کو تقسیم کرتے ہیں جب کہ اسلام انسانیت کو متحد رکھتا ہے ۔ اسلام کی بنیاد "لا الہ الا اللہ "  کے نظریہ پر ہے ۔جو اس نظریہ پہ یقین رکھتا ہے، اس کے لیے رنگ و نسل  اور علاقہ و زبان کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ بلال  حبشی ، سلمان فارسی اور صہیب رومی اسلامی کے سائَے تلے سب برابر تھے ۔

                                                                تہذیب اور نظام کے تناظر میں ہم نے اسلام اور مغرب کی خوبیاں و خامیاں بیان کر دی ہیں ۔ فائدہ مند کون ہے ؟ استقرار اور بقاء کس کے حصے میں آتی ہے ؟ بحثیت مسلما ن ہم اس بات کے داعی ہیں کہ اسلامی نظام اور تہذیب ہی انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں ، استقرار اور بقاء انہی کے حصے میں آئے گا ۔رہے مغربی تہذیب اور نظام تو ان میں اتنی خوبیاں نہیں ہیں کہ بقاء اور استقرار ان کا مقدر بنے ۔ ابھی گزشتہ صدی ہی کی بات ہے،کیمونزم اپنی کھوکھلی بنیادوں کی وجہ سے اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ سکا  اور ریت کی دیوار ثابت ہو ا۔ اسی طرح کیپیٹلزم بھی کتنے دن چل سکے گا ؟فسادات اور بگاڑ کایہ  پلندہ کسی دن تو اپنی موت آپ مرے گا۔ { آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی }

مغربی تہذیب کے مضمرات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ بقول اقبال :

دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دوکان نہیں ہے

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو  ذر کم اب وہ عیار ہو گا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

شاخ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...