Skip to main content

علماء سے امتیازی سلوک کی وجوہات اور ہماری ذمہ داری

 

علماء سے امتیازی سلوک کی وجوہات اور ہماری ذمہ داری

از قلم :

استاد عبد الحنان کیلانی



                یقینا آج کے دور میں علماء کے ساتھ تقریبا زندگی کے ہر شعبہ میں امتیازی رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ یہ بہت ہی افسوس ناک ہے۔ حقیقت یہ ہے علماء کے ساتھ یہ سلوک اس وقت شروع ہوا ہے جب دنیا کا نوآبادیاتی دور شروع ہوا ہے۔ دنیا کے مختلف علاقہ جات کو انگریز نے فتح کیا ہے۔ انگریز جہاں جہاں بھی گیا ہے وہاں اس نے صرف معاشی استحصال ہی نہیں کیا بلکہ اپنا سیاسی و تعلیمی نظام اور معاشرتی کلچر بھی زبردستی مسلط کیا ہے۔ اس کے تعلیمی نظام میں بنیادی حیثیت مذہب کو نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم کو ہے۔

                انگریزی تعلیمی نظام میں مذہب بمشکل ثانوی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے تعلیمی نظام میں مذہب کو اساسی اور اولیں حیثیت حاصل ہے۔ باقی تمام علوم اس کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ جب تک انگریزی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تعلیمی نظام  اور ان نظاموں کے حاملین و ماہرین رہیں گے تب تک بحثیت مجموع علماء کو ایسے امتیازی رویے دیکھنا پڑیں گے۔ اس صورت حال سے خلاصی کے من جملہ طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ علماء فکری و علمی سطح پر ان نظاموں کی جنگ لڑیں۔ انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں اسلامی نظام کی برتری و فوقیت کو ثابت کریں۔ جب لوگ اپنی معاشرت، سیاست اور معیشت میں اسلامی طرززندگی کو ترجیحی بنیادوں پر رکھ لیں گے تو سماج میں علماء کے عزت و وقار میں خود بخود اضافہ ہو جائے گا۔ نتیجے میں ان کی تنخواہوں اور مشاہرات میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔

                 ہر بچہ ڈاکٹر، انجینر اور سائنس دان بننے کی بجائے عالم دین بننا پسند کرے گا۔ واضح رہے اس کا ہر گز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ علماء کے حالیہ معاشی استحصال کی طرف لوگوں کو متوجہ نہ کیا جائے۔ اور سب کچھ نظام کی تبدیلی کے ساتھ معلق کردیا جائے۔ بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ علماء کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے اور ان کے منصب و وقار کے حصول کی جدوجہد میں نظام کی تبدیلی کو بنیادی حیثیت دی جائے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...