Skip to main content

ہوس زدہ مغربی تہذیب

 

ہوس زدہ مغربی تہذیب

از قلم: نعمان عثمان



                گزشتہ چار سو سال سے پروان چڑھنے والی مغربی تہذیب جسے بظاہر "یونیورسل سیویلائزیشن " کے اعزاز سے یاد کیا جاتا ہے ۔  یہ تہذیب خدا اور مذہب کے انکار پہ کھڑی ہے ۔اس تہذیب کی اساس عقل ہے ۔   جب عقل کو بنیاد بنایا تو ہر انسان اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنے لگا ،کچھ ہی وقت میں  اس تہذیب کے ماننے والے شہوات کے رسیا  ہوتے چلے گئے ۔عورت ان کی زندگی کا مشغلہ بن گئی ۔

                چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی ممالک  میں ہم جنس پرستی ، شراب ، زنابالرضاء   وغیرہ کے جواز کے بل پاس ہوتے ہیں ۔ جب خدا ارو مذہب کا انکار کیا تو جس طرف  عوامی رائے کثرت سے ہو اس بل کو منظور کر لیا جاتا ہے ۔آئے روز مغربی ممالک میں فحاشی و عریانی کو فروغ مل رہا ہے ۔ چھوٹی سی بچی جب سکول جانے لگتی ہے تو اس کی ماں اس کے لنچ کے ساتھ آرٹیفیشل آلہ تناسل ساتھ رکھتی ہے ، لڑکا اور لڑکی کے تعلق میں کسی قسم کا عیب محسوس نہیں کیا جاتا  بلکہ اگر کسی کا اس طرح کا تعلق نہ ہو تو اسے کم تر اور پرانے خیالات کا حامل تصور کیا جاتا ہے ۔

                اسی طرح مغربی تہذیب کا ہتھیار عورت ہے ، مغرب نے زندگی کے تمام شعبوں میں عورت کو شامل کیا ، فحاشی و عریانی اور پروپیگنڈہ کے لیے ہر جگہ عورت کا استعمال کرنا مغرب کے آہنی ہتھکنڈوں میں سے ہے ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی چیز کی پبلیسیٹی کرنا ہو ، میڈیا پہ کوئی خبر دینا ہو ، پولیس ، فوج ، ریسکیو الغرض ہر جگہ عورت کو مردوں کے شانہ بشانہ لا کھڑا کیا ہے ۔

اپنی دیگر  خواہشات کی تکمیل کے لئے انھوں نے مزید کئی نعرے ایجاد کئے ،جس میں دو بنیادی نعرے"حقوق انسانیت اور"آزادی" ہیں۔خواہشات پر مبنی ان نعروں نےانسانیت  کو لامتناہی مسائل میں الجھا کر رکھ دیاہے ۔حقوق انسانی اور آزادی کو مغرب نے ہمیشہ اپنے مقاصد کےلیے استعمال کیا ہے  ۔حقوق انسانی کے نام پہ کئی مسلم ممالک پہ حملے کیے گئے۔ آزادی کے نام پر اخلاقی بے راہ روی ،جنس پرستی ،جنسی آوارگی کو فروغ دیا گیا۔آزادی کے نام پر عورت کو سربازار عریاں کیا گیا ۔

ایسی ریت کے میناروں پہ کھڑی تہذیب کے متعلق اقبال نے فرمایا تھا:

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی

شاخ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا

تعجب کا مقام یہ ہے کہ مغرب اپنی اس تہذیب کو مسلم ممالک  اور معاشروں میں رائج کرنا چاہتا ہے ، اس کے لیے وہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے ،  لہذا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی نظام اور اسلامی تعلیمات کو اپنے ملکوں اور معاشروں میں عام کریں ، اپنے افراد کی تربیت اسلامی اکائیوں پہ کریں ، انہیں خود اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں مغرب تہذیب کی چکا چوند سے متاثر ہونا ہے یا   اللہ اور اس کے رسول کے دیے ہوئے رستے پہ چلنا ہے ۔


                                       صِبْغَةَ ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُۥ عَٰبِدُونَ (البقرة - 138)

"(نیز ان سے کہہ دو کہ : ہم نے) اللہ کا رنگ (قبول کیا) اور اللہ کے رنگ سے  بہتر کس کا رنگ ہوسکتا ہے۔ اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں"


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...