عیوب کی تشہیر سے بچیں
از قلم : سمیع اللہ
انسان خطاء کا پتلا ہے ۔ انسانی سماج میں آئے روز ہم
انسانوں سے مختلف غلطیاں سرزد ہوتے دیکھتے ہیں ۔ یہ غلطیاں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پہ ہوتی ہیں۔شریعت اسلامیہ
میں جس طرح ہمیں کسی جرم کے خاتمے اور غلطی
کی اصلاح کا حکم ہے ، بلکل اسی طرح ہمیں
پردہ پوشی کا بھی حکم دیا گیا ہے ۔ بحثیت مسلمان ہمارے اوپر یہ بات لازم ہے کہ ہم
غلطی کی اصلاح کے ساتھ ہم اس کی تشہیر کو
روکیں ، تاکہ معاشرے کی فضاء خراب نہ
ہو اور دوسرے لوگ اس سے متاثر ہونے سے بچیں۔
ایک مسلمان
ہونے کے ناطے ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم عیوب کی تشہیر کی بجائے ان
کی پردہ پوشی کریں ، شریعت اسلامیہ کا ہم سے تقاضہ بھی یہی ہے ۔ اللہ تعالی کی صفات میں سے ایک صفت
"ستار" "پردہ ڈالنے والا" ہے ۔ اللہ تعالی اس بات کو پسند
کرتے ہیں کہ اس کے بندوں میں بھی یہ صفت پائی جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا
سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ
"جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالی قیامت
والے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا"
ہمارا میڈیا جو آزادی
صحافت اور اصول پسندی کی بجائے ، مفاد پرستی
، عیوب کی تشہیر کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ Personal
life اور Social life کے سکینڈلز آئے روز جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے ہیں۔ ایک مسلمان ہوتے ہوئے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ
میڈیا پہ ہونے والی عیوب کی تشہیر کو بھی روکیں
تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی ہمارا مقدر بنے ۔
Comments
Post a Comment