سیکولرزم ایک تعارف
ازقلم: سیف الرحمن
سیکولرزم
اسلام مخالف یا اسلام متضاد نظریہ ہے. سیکولرزم کا مطلب اجتماعیات کے باب سے مذہب
کے وجود کا خاتمہ کرنا ہےیا محدود کرنا ہے ۔سیکولرزم کی بنیاد عقل پرستی اور نتیجہ
مادیت پرستی ہے۔
موجود
دور میں سیکولرزم کے دو تصورات ہیں:
1 :
کیپیٹلسٹ ( سرمایہ دارانہ تصور)
2:کیمونسٹ
(اشتراکی تصور )
سیکولرزم
نے انسانی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:
1:(انفرادی) جس میں عقائد ' رسومات اور
عبادات شامل ہیں۔
2: (اجتماعی) جس میں سیاست' معیشت اور معاشرت
سر فہرست ہیں۔
سرمایہ
دارانہ تصور کے مطابق انفرادی زندگی میں تو مذہب کی اجازت ہے لیکن اجتماعی زندگی
سے مذہب کا مکمل خاتمہ کر دیتے ہیں۔اشتراکی تصور کے مطابق انفرادی اور اجتماعی
دونوں حصوں سے مذہب کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جاتا ہے. اگر سرمایہ دارانہ نظام
میں خرابیاں ہیں تو اشتراکیت اس سے بھی بدتر نظام ہے۔سیکولرزم کو اگر اسلامی نقطہ
نظر سے دیکھا جائے تو اسلام اس نظریے کی مکمل طور پر تردید کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ
فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ
الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ{ {البقرہ:
85}
"تو کیا تم اللہ کے بعض احکامات کو مانتے ہو اور
بعض سے انکار کرتے ہو؟ تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ دنیوی زندگی میں ذلت و
رسوائی کے سوا اور کیا ہے اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب کی طرف لوٹایا
جائے گا''
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی ضابطہ حیات کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
((ترَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا
مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّه ))
" میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب
تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، الله تعالی کی کتاب
اور اس کے نبی اکرم (ﷺ) کی سنت۔"
اسلام اپنے نظریے میں اتنی جامعیت رکھتا ہے کہ انسانی
زندگی کے تمام مسائل کا حل پیش کر سکے چاہے انکا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا
اجتماعی زندگی سےاور اللہ تعالیٰ کا ہم سے مطالبہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی
میں اسلام کو مکمل نظریہ حیات کے طور پر تسلیم کریں اور اس کو اپنی زندگی میں لاگو
بھی کریں۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
(يا أَيُّهَا
الَّذِينَ آمَنُواادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً)
یعنی " اے ایمان
والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ"{البقرہ: 208}
Comments
Post a Comment