Skip to main content

اسلام اور سیکولرازم

 

اسلام اور سیکولرازم

ازقلم :

محمد حنیف  ریسرچ سکالر الحکمۃا نٹرنیشنل



                سیکولرازم ایسا طرز زندگی ہے جس میں اجتماعی امور اور مذہبی معاملات کو الگ الگ کر دیا جاتا ہے۔ کیمبرج انگلش ڈکشنری کے مطابق

                ”سیاسی و معاشرتی معاملات میں مذہب کی عدم مداخلت کا نام سیکولرزم ہے“۔

                سیکولرزم صرف مذہب سے آزادی کا نام نہیں بلکہ یہ خود ایک نظام زندگی ہے۔ جو تمام اجتماعی معاملات کو انسانی عقل سے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔سیکولرازم انفرادی زندگی میں تو خدا کو ماننے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن اجتماعی معاملات خدا کی راہنمائی سے انکار کرتا ہے لہٰذا سیکولرزم خود ایک نظام زندگی ہے۔ یہ کسی مذہب کو اپنے اوپر حاوی ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی بھی مذہب اس کے تابع رہنا چاہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ دنیا کے اکثر مذاہب مثلاً مسیحیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت وغیرہ نے سیکولرزم کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

                لیکن اسلام اور سیکولرزم کا ٹکرا شروع ہو گیا۔ اسلام باقی مذاہب سے یکسر مختلف ہے۔ یہ وہ دین ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو کی متعلق رہنمائی موجود ہے۔ یہ ایک مکمل دین ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ خواہ وہ سیاست ہو، تجارت ہو، روایات و اقدار ہوں یا انفرادی زندگی کے اصول و ضوابط اسلام سے باہر نہیں رہ سکتا۔ اسلام ریاست کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے باغی ہو کر نظام زندگی چلائے۔ اسلام ریاست سمیت کسی کی ماتحتی قبول نہیں کرتا۔ وہ اپنے ماننے والوں کو ایک منظم جماعت بنانے کی دعوت دیتا ہے۔ جس کا کام نہ صرف انفرادی معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی پیروی ہے بلکہ پورے دین کو بطور نظام زندگی غالب کر دینے کی ذمہ داری سونپتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام اور سیکولرازم ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔مندرجہ ذیل نکات سے یہ بات نکھرکر سامنے آجائے گی:

1             ۔سیکولرازم مذہب کو صرف عقائد وفکر اور عبادات تک محدود کرتا ہے، جس سے فقہ اسلامی کا تقریبا سارہ قصہ ہی تمام ہوجاتا ہے۔معاملات، جنایات وغیرہ ہیں۔یہ چیز اسلام کی روح،مسلمانوں کے اجتماعی تعامل اور تاریخی روایات کے مخالف ہے۔پھر یہ اس وقت ممکن ہے جب ایمان اور عمل کو دو جداگانہ حقیقتں سمجھا جائے۔اس کے برعکس قرآن بارہا ایمان اور اعمال صالحہ کو یکجا ذکر کرتا ہے ان دونوں کے باہمی تعلق کو بیج اور درخت سے بیان کرتاہے۔

2             ۔ سیکولرازم زندگی کے اجتماعی یا تمام معاملات میں انسان کو قانون سازی کا حق دیتا ہے جبکہ اسلام کی نظر میں یہ استحقاق صرف اللہ تعالی کا ہے۔قرآن میں ہے وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (مائدہ۔ 44 )

اور ایک دوسری جگہ میں فرمایا: أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ (مائدہ۔ 50 )

یعنی اسلام کے مطابق انسان کی ذمداری قانون سازی کی نہیں بلکہ حالات کے تحت قانون الہی سے راہنمائی لینا ہے۔

3             ۔ شخصی آزادی سیکولرازم کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔یہ اس کے ہاں اس قدر مطلق ہے کہ انسان کے الحاد اور محرمات کے ارتکاب پر بھی کوئی سزا عائد نہیں کی جاسکتی۔بلکہ اس سلسلہ میں کوئی بھی اقدام نجی اور ذاتی زندگی میں مداخلت تصور کیا جائے گا۔ سیکولرازم کا یہ اصول اسلام کے تصور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مخالف ہے جبکہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر امت مسلمہ کی اساس اور مقصد موجود ہے۔

كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ 

                اس لئے کوئی آدمی ہندو، مسیحی اور بدھ مت ہوکر تو سیکولر رہ سکتا ہے لیکن مسلمان بیک وقت سیکولر اور مسلمان نہیں رہ سکتا۔ ایسا کرنے کے لیے قرآن اور سیرت رسول کے ایک بہت بڑے حصے کا واضح انکار کرنا پڑے گا۔


📘الحکمةانٹرنیشنل لاہور پاکستان، زندگی شعور سے🌎

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...