اسلام اور سیکولرازم
✒ازقلم :
محمد حنیف ریسرچ سکالر الحکمۃا نٹرنیشنل
سیکولرازم
ایسا طرز زندگی ہے جس میں اجتماعی امور اور مذہبی معاملات کو الگ الگ کر دیا جاتا
ہے۔ کیمبرج انگلش ڈکشنری کے مطابق
”سیاسی
و معاشرتی معاملات میں مذہب کی عدم مداخلت کا نام سیکولرزم ہے“۔
سیکولرزم
صرف مذہب سے آزادی کا نام نہیں بلکہ یہ خود ایک نظام زندگی ہے۔ جو تمام اجتماعی
معاملات کو انسانی عقل سے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔سیکولرازم انفرادی زندگی میں تو
خدا کو ماننے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن اجتماعی معاملات خدا کی راہنمائی سے انکار
کرتا ہے لہٰذا سیکولرزم خود ایک نظام زندگی ہے۔ یہ کسی مذہب کو اپنے اوپر حاوی
ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی بھی مذہب اس کے تابع رہنا چاہے تو اسے کوئی
اعتراض نہیں ہوتا۔ دنیا کے اکثر مذاہب مثلاً مسیحیت، یہودیت، ہندومت، بدھ
مت وغیرہ نے سیکولرزم کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
لیکن
اسلام اور سیکولرزم کا ٹکراﺅ
شروع ہو گیا۔ اسلام باقی مذاہب سے یکسر مختلف ہے۔ یہ وہ دین ہے جس میں زندگی کے ہر
پہلو کی متعلق رہنمائی موجود ہے۔ یہ ایک مکمل دین ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ خواہ
وہ سیاست ہو، تجارت ہو، روایات و اقدار ہوں یا انفرادی زندگی کے اصول و ضوابط
اسلام سے باہر نہیں رہ سکتا۔ اسلام ریاست کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ اللہ اور اس
کے رسول سے باغی ہو کر نظام زندگی چلائے۔ اسلام ریاست سمیت کسی کی ماتحتی قبول نہیں
کرتا۔ وہ اپنے ماننے والوں کو ایک منظم جماعت بنانے کی دعوت دیتا ہے۔ جس کا کام نہ
صرف انفرادی معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی پیروی ہے بلکہ پورے دین کو بطور
نظام زندگی غالب کر دینے کی ذمہ داری سونپتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام اور سیکولرازم
ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔مندرجہ ذیل نکات سے یہ بات نکھرکر سامنے آجائے گی:
1 ۔سیکولرازم
مذہب کو صرف عقائد وفکر اور عبادات تک محدود کرتا ہے، جس سے فقہ اسلامی کا تقریبا
سارہ قصہ ہی تمام ہوجاتا ہے۔معاملات، جنایات وغیرہ ہیں۔یہ چیز اسلام کی
روح،مسلمانوں کے اجتماعی تعامل اور تاریخی روایات کے مخالف ہے۔پھر یہ اس وقت ممکن
ہے جب ایمان اور عمل کو دو جداگانہ حقیقتں سمجھا جائے۔اس کے برعکس قرآن بارہا ایمان
اور اعمال صالحہ کو یکجا ذکر کرتا ہے ان دونوں کے باہمی تعلق کو بیج اور درخت سے بیان
کرتاہے۔
2 ۔
سیکولرازم زندگی کے اجتماعی یا تمام معاملات میں انسان کو قانون سازی کا حق دیتا
ہے جبکہ اسلام کی نظر میں یہ استحقاق صرف اللہ تعالی کا ہے۔قرآن میں ہے وَمَن
لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (مائدہ۔
44 )
اور ایک دوسری جگہ میں فرمایا:
أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا
لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ (مائدہ۔ 50 )
یعنی اسلام کے مطابق انسان کی ذمداری قانون سازی کی نہیں
بلکہ حالات کے تحت قانون الہی سے راہنمائی لینا ہے۔
3 ۔
شخصی آزادی سیکولرازم کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔یہ اس کے ہاں اس قدر مطلق ہے کہ
انسان کے الحاد اور محرمات کے ارتکاب پر بھی کوئی سزا عائد نہیں کی جاسکتی۔بلکہ اس
سلسلہ میں کوئی بھی اقدام نجی اور ذاتی زندگی میں مداخلت تصور کیا جائے گا۔ سیکولرازم
کا یہ اصول اسلام کے تصور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مخالف ہے جبکہ
امربالمعروف اور نہی عن المنکر امت مسلمہ کی اساس اور مقصد موجود ہے۔
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ
اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ
وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
اس
لئے کوئی آدمی ہندو، مسیحی اور بدھ مت ہوکر تو سیکولر رہ سکتا ہے لیکن مسلمان بیک
وقت سیکولر اور مسلمان نہیں رہ سکتا۔ ایسا کرنے کے لیے قرآن اور سیرت رسول کے ایک
بہت بڑے حصے کا واضح انکار کرنا پڑے گا۔
Comments
Post a Comment