اہل حدیث اور اہل حدیث کا منہج
از قلم: استاذ عبد الحنان کیلانی
لفظ
’اہل حدیث‘ ابتدائی اسلامی صدیوں میں اہل الرائے کے مقابلہ میں سامنے آیا۔ یہ
دونوں مختلف طرح کے طریق ہائے استدلال ہیں۔
بس مختصر یہ کہ اہل الرائے نے فقہ اور رائے کو اصل قرار دے کر اس پر مزید
استدلالات اور فتاوی جات دینے شروع کردیے جبکہ اہل حدیث نے صرف قرآن و حدیث کو بنائے استدلال ٹھہرایا۔
مذکورہ
توضیح کی روشنی میں یہ واضح ہےکہ لفظ اہل حدیث اپنے آغاز میں ایک فقہی پس منظر
کا رکھتا
ہے۔ گویا اہل حدیث سے مراد وہ لوگ
ہیں جو ایک مخصوص طرزاستدلال کے حامل ہوں۔ جس کی توضیح مولانا اسماعیل سلفی یوں
فرماتے ہیں:
’’
شروع شروع میں لفظ ’اہل حدیث‘ کا مقصد یہ تھا کہ اجتہادی امور میں تقلید اور جمود
کو دین میں پنپنے کا موقعہ نہ دیا جائے بلکہ صحابہ اور ائمہ اسلام کے اجتہاد سے
وقت کے مصالح کے مطابق فائدہ اٹھایا جائے اور فقہی فروع میں جمود اور فرقہ پروری کی
حوصلہ افزائی نہ ہونے پائے۔ اصل نظر کتاب
اللہ اور آنحضرت ﷺ کی سنت پر مرکوز ہے۔‘‘(تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی
مساعی) ص 21
بعد
ازاں امت میں مزید ایک فقہی طرزاستدلال سامنے آیا۔ جو اہل ظاہر کے نام سے مشہور
ہوا۔ گویا فقہی میدان میں امت میں تین رویے سامنے آئے اہل حدیث، اہل رائے اور اہل
ظاہر ۔ ان میں سے اہل رائے اور اہل ظاہر
دو انتہائی طرز استدلال ہیں جبکہ اہل حدیث
اعتدال پر ہیں۔ ان کی تفصیلات کے لیے مولانا اسماعیل سلفی کی مذکورہ محولہ کتاب ملاحظہ کیجے۔
اہل حدیث کا منہج:
درج
بالا توضیحات سے واضح ہوا کہ اہل حدیث سے
مراد ایک مخصوص طرزاستدلال کے حامل لوگ ہیں۔ جو کتاب و سنت کی
بالادستی کے قائل ہیں۔ بس یہ طرزاستدلال ہی اہل حدیث کا منہج ہے۔ واضح
رہے استدلال اور طرزاستدلال میں فرق ہے۔
جس طرح فکر اور طرزفکر میں فرق ہے۔ طرزفکر سے
مراد یہ ہے کہ سوچنا کیسے ہے؟ جبکہ فکر سے مراد اس سوچنے کا حاصل اور نتیجہ
ہے۔ اسی طرح طرزاستدلال سے مراد ہے کہ استدلال کرنا کیسے ہے؟ اور استدلال سے مراد
وہ نتیجہ اور حاصل ہے جو استدلال کے عمل سے حاصل ہوا ہے۔ چنانچہ منہج سےمراد ایک
مخصوص طرزاستدلال ہے۔ جس کی فقہ کے باب میں
وضاحت مذکورہ سطور میں گزر چکی ہے۔
اب
یہی منہج اور طرزفکر جب عقیدہ میں اپنایا گیا تو وہاں اہل حدیث اہل سنت کے نام سے
مشہور ہوئے۔ مثلا عقیدہ کے باب میں صفاتِ
الہیہ کے حوالے سے اہل حدیث یا اہل سنت کا
منہاج یا طرزاستدلال یہ ہے کہ صفاتِ الٰہیہ
میں تعطیل، تشبیہ، تمثیل، تکییف اور تفویض نہیں۔ جبکہ یہاں اہل حدیث یا اہل سنت کے
مقابلہ میں دوسرے مناہج یا طرزہائے استدلال معتزلہ، اشاعرہ، جہمیہ، خوارج اور
مرجئہ وغیرہ کے ہیں۔ تفصیل کے لیے امام ابن تیمیہ کا عقیدہ واسطیہ ملاحظہ ہو۔
اسی
طرح تفسیر کے باب میں اہل حدیث کا منہج استدلال یا طرزاستدلال یہ ہے کہ قرآن کی
تفسیر قرآن سے، قرآن کی تفسیر حدیث سے، قرآن کی تفسیراقوال صحابہ سے، قرآن کی تفسیر اقوال تابعین اور لغت سے۔
تفصیل کے لیے اصول تفسیر میں مقدمہ ابن تیمیہ ملاحظہ ہو۔ جبکہ یہاں دیگر
تفسیری مناہج نے قرآن کی تفسیر میں کسی
نے لغت، کسی نے فلسفہ اور کسی نے سائنس وغیرہ کو اولیت دی۔ جیسے آج کے دور میں
فراہی و غامدی، پرویز اور سرسید کےمناہج تفسیر ہیں۔
اسی
طرح حدیث کے باب میں اہل حدیث کا منہج یہ
ہے کہ خبر کی تحقیق بذریعہ خبر کی جائے۔ جبکہ درایت کے نام سے خودساختہ عقلی اصولوں کو اہمیت نہ دی جائے۔ تفصیل کے ملاحظہ ہو مقدمہ ابن الصلاح اور تدریب الراوی
وغیرہ
نوٹ:
جیسا
کہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ فکر اور طرزفکر میں فرق ہے۔ یعنی منہج اور اس کے
نتائج دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ رفع الیدین،
فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر وغیرہ فکر
ہیں۔ طرزفکر یا منہج نہیں۔ یعنی یہ منہج کے نتائج ہیں۔ ان میں اصل چیز منہج ہے۔ اس کے مقابلہ میں نتیجہ یا فکر کی ثانوی حیثیت ہے۔ کوئی اہل
حدیث ہے یا نہیں اس کا فیصلہ منہج کو دیکھ کر
کیا جائے گا نہ کہ نتائج دیکھ کر۔
اگر کوئی منہج میں اہل حدیث ہے لیکن اس کے
بعض فکری نتائج کتاب و سنت سے لگا نہیں کھاتے ۔ لیکن اس نے غورو فکر منہج اہل حدیث
کے مطابق ہی کیا ہو تو وہ اہل حدیث ہے۔ اس کی اس خطاء کو زیادہ سے زیادہ اجتہادی خطاء کہا جائے گا۔ اس کے
برعکس اگر کوئی منہج میں غیراہل حدیث ہے
لیکن اس کے نتائج ایسے ہیں جنہیں کتاب و سنت کی
بظاہر تائید حاصل ہے تو وہ اہل حدیث نہیں۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ وحدۃ الوجود کے
قائل ہونے کے باوجود اہل حدیث ہیں۔ کیونکہ ان کا منہج اہل حدیث کا ہے۔ مجدد الف
ثانی شہودی ہونے کے باوجود اہل حدیث ہیں۔ کیونکہ ان کا منہج اہل حدیث والا ہے۔
اکبر نے جب ابن عربی کتاب فصوص الحکم سے دین
الٰہی کے نام سے اپنا دین ایجاد کیا تو مجدد الف ثانی نے کہا ہمیں فص نہیں نص
(قرآن و سنت) چاہیے۔
Comments
Post a Comment