Skip to main content

مغرب کا دلفریب نعرہ آزادی

 ‘‘ مغرب کا دلفریب نعرہ آزادی’’

مرتب: نعمان عثمان




                کسی بھی معاشرہ کے بگاڑ اور زوال کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی قدروں، اصول اور طریقِ کار کو پسِ پشت ڈال کر  دوسروں کی دریوزہ گری کرے اور اپنی سماجی و مذہبی خصوصیات و امتیازات سے دستکش ہو کر دوسرے سماجوں اور تہذیبوں کی چاکری کرے۔

                مغرب نے  آزادی کا جو تصور دیا ہے ،وہ انسانیت کے لیے انتہائی بھیانک صورت اختیار کر چکا ہے ۔آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان جو کرنا چاہے ، وہ کر سکے ،  اسے  اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنہ نہ کرنا پڑے ۔دوسرے لفطوں میں" لا الہ الّا الانسان " آزادی کا مفہوم ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ مغرب آزادی کس سے چاہتا ہے ؟  مغرب کی یہ آزادی مذہب ، اخلاقیات اور روایات سے ہے ۔

                اس دلفریب نعرے کو زندگی کے تمام حصوں میں لاگو کیا گیا ،آزادی معیشت میں زیر بحث لائی گئی تو سود ، ذخیرہ اندوزی ، جیسی خرافات نے جنم لیا۔ جب یہی آزادی سیاسیات میں متعارف کروائی گئی تو جمہوریت جیسا ناکارہ نظام وجود میں آیا ۔ آزادی کو جب معاشرت پہ لاگو کیا گیا ، تو بے حیائی اورعریانی کو فروغ ملا ، جس نے خاندانی نظام کو سبو تاژ کرنے میں  کلیدی کردار ادا کیا ۔

                یہ بات باعث تعجب ہے کہ مغربی تہذیب انتشار اور خلفشار کا شکار ہے۔ ایک طرف اقوام عالم میں آزادی کا نعرہ متعارف کروایا اور دوسری طرف قوموں کی بقاء کے لیے نیشلزم کی آئیڈیالوجی پیش کی گئی ۔ یہ دونوں متضاد چیزیں ہیں ۔ اس طرح کاانتشار   مغربی تہذیب کو زوال کی جانب گامزن کیے ہوئے ہے۔

                افسوس کے مغرب اپنے ان بوسیدہ نعروں اور منتشر نظام کو مسلم ممالک میں پھیلانے کا خواہش مند ہے ۔ معاشی امداد ، تجارتی تعلقات ، دفاعی معاہدے یہ صرف معاہدے ہی نہیں بلکہ نظام،  تہذیب اور اقدار و روایات منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم علاقہ جات میں اسلامی تہذیب ، نظام ، اقدار و روایات کو فروغ دیا جائے ۔ معاشرے میں دینی شعور کو بیدار کیا جائے ۔اللہ ہمیں اسلام کی سمجھ عطا فرمائے 

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...