Skip to main content

سیکولرزم کو پھیلانے کے طریقے

 

سیکولرزم کو پھیلانے کے طریقے

از قلم :راحیل  قمر 



                موجودہ مغربی تہذیب سیکولرزم کو مسلم ممالک میں پھیلانے کے لیے سر توڑ کوشیں کر رہے ہیں۔ اسلام دشمن طاقتوں نے خاص طورپر صہیونی، صلیبی اشتراک نے سیکولرزم کومسلمانوں میں عام کرنے کے مختلف طریقے اپنائے۔

1             :  الیکڑانک اورپرنٹ میڈیا کے ذریعہ یہ پروپیگنڈہ کرنا کہ اسلام دور انحطاط کی کھوج ہے۔ اس کی تعلیمات، روایات قدیمہ کی حامل ہے، (العیاذ باللہ) مادی ترقی کے دور میں قابل عمل نہیں رہا، حالاں کہ ایسا ہرگز نہیں، الحمدللہ! کسی بھی زمانہ میں انسان کی حقیقی ترقی، جس کو روحانی ترقی سے بھی تعبیر کیا گیا ہے، اس کا حامل اگر ہے تو یہی اسلام ہے۔  اس لیے کہ انسان کی حقیقی ترقی یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کو راضی کرلے اور دنیا میں اس کا تقرب حاصل کرلے، قرآن کا اعلان ہے ”ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقٰکم“ (سورة الحجرات:پ۲۶، آیت۱۳)تم میں سب سے زیادہ مکرم و معزز و برگزیدہ اللہ رب العزت کے نزدیک وہ ہے، جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو یعنی گناہوں سے اسی طرح لوگوں کو اور مخلوق کو تکلیف دینے سے مکمل اجتناب کرتا ہو، یہ ہے اصل ترقی کا زینہ۔

2             : العیاذ باللہ یہ پروپیگنڈہ کرنا کہ اسلام خونی مذہب ہے، یعنی اس کی تاریخ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے، حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، اگر تاریخ کا غائرانہ مطالعہ کریں، تو معلوم ہوگا کہ پچھلے سو سال میں جمہوریت اور سیکولرزم کے نام پر دنیا میں جتنا ظلم ہوا اور قتل و غارت گیری ہوئی، اسلام میں، اس کی ایک بھی نظیر نہیں ملتی، ایک سروے کے مطابق ”اوریا مقبول جان“ مشہور صحافی تحریر فرماتے ہیں کہ پچھلے سو سال میں تقریباً سترہ کروڑ انسانوں کو جمہوریت کے بھینٹ چڑھا دیا گیا، اس سے سولہویں صدی میں ریڈ اینڈینز کو سو ملین کی تعداد میں نئی دنیا کی دریافت کے نام بے قصور موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، غرناطہ میں تیس لاکھ مسلمانوں کو صلیبیت کے نام پر قربان کردیا گیا، فلسطین میں لاکھوں مسلمانوں اور یہودیوں کو عیسائیوں نے بلاجرم قتل کردیا، جب کہ اسلامی تاریخ میں مسلمان امراء کی فراخ دلی، رعایا سے ہمدردی اور انصاف کوئی پوشیدہ چیز نہیں  ہے۔ ہماری تاریخ خونی اور ظالمانہ نہیں، اگر ظالمانہ تاریخ ہےانہی سیکولرزم کا نعرہ دینے والوں کی ہے، مگر اپنا عیب چھپانے کے لیے وہی اپنا قصور مسلمانوں پر تھوپ دیا جاتا ہے ۔

3             : قرآن و حدیث کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کرنا کہ وہ ایک خاص جماعت او ر نسل کے لیے نازل کیا گیا تھا یا یہ کہنا کہ قرآن و حدیث کی(العیاذ باللہ) کوئی حقیقت نہیں ہے۔ وہ تو انسان ہی کا مرتب کردہ ہے، جب کہ حقائق اس کا صراحت کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ قرآن کا اعلان ہے ”کتاب اَنزلنٰہ الیک۔ (سورة ابراہیم:پ۱۳،آیت۱) و ما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحیٰ“ وغیرہ۔(سورة النجم:پ۲۷،آیت۲،۳)

4             :ایمان بالغیب کا انکار کرنا اور اس کا مزاق اڑانا اور یہ کہنا کہ نیچریت اور طبیعت اس کو تسلیم نہیں کرتی، اور اس کے بارے میں یہ کہنا کہ ملائکہ، جن، جنت، دوزخ ،حساب، برزخ، قدر، معراج، معجزات، انبیاء وغیرہ، یہ سب محض خرافات ہیں، اس کی کوئی حقیقت نہیں، حالاں کہ قرآن نے پہلے پارے کے پہلے ہی رکوع میں متقی مسلمانوں کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ”یوٴمنون بالغیب“ (سورة البقرة:پ۱، آیت۳) وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔اور اس طرح نقل کو عقل پر ترجیح کے قائل ہیں۔

5             : مسلمان معاشرہ میں موجود اخلاقی قدروں کو ملیامیٹ کرنا اور اباحیت پسندی کو فروغ دینا، تعلیمی نصاب میں ایسا مواد سمو دینا، جس سے ابناء قوم طفولیت ہی سے ایمان باللہ، ایمان بالقیامة سے محروم رہے ،اور جنسیت، مادیت، فیشن پرستی کا دلدادہ ہو جائے، ماحول ایسا بنا دیا جائے کہ عشق بازی، حیاسوزی، نوجوانوں کی عادت بن جائے، ایسی ایسی فلمیں اور سیریلیں بنائی جائیں، جس میں مار پیٹ، لڑائی، جھگڑا، فتنہ، فساد، عشق و محبت، بداخلاقی و بدکرداری کو فروغ حاصل ہو ، حالاں کہ بداخلاقی، بدکرداری، عشق بازی، فتنہ فساد سے، تعلیمات اسلامیہ مکمل اجتناب کا درس دیتی ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...