Skip to main content

اسلام اور مغرب (قومیت اور ملت کے تناظر میں ) 57


اسلام اور مغرب (قومیت اور ملت کے تناظر میں )

از قلم : سیف الرحمٰن



                     اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب دو مختلف طرز ہائے فکر ہیں ۔زندگی کے تمام پہلوؤں میں عقاد و نظریات اور اقدار و روایات سرے سے ہی مختلف ہیں ۔ یہی صورت حال قومیت اور ملت کے تصور میں ہے ۔ مغرب نے قومیت کی بنیاد  علاقہ، رنگ ، نسل اور زبان پر رکھی ہے ۔جب کہ اسلام اس کے برعکس ملت کا تصور دیتا ہے۔  اسلام "لاالہ الا اللہ " کی  آئیڈیالوجی کو اہمیت دیتا ہے ۔ چنانچہ جب اسی فکر پہ نظام تشکیل پائے گا تو ملت وجود میں ائے گی۔

                    جب ہم اسلام اور مغرب کے تصور ملت اور قومیت کے اثرات کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے کی ایک پہلو واضح ہوتے ہیں ، مغرب نے قومیت کے لیے علاقہ کو بنیاد بنایا  تو نتیجتا وطنیت پرستی وجود میں ائی ، جو کہ اقوام عالم میں کئی جنگوں کا باعث بنی ، دو عظیم جنگیں اسی وطنیت پرستی کا نتیجہ ہے ۔  موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر طاقتور ملک اپنے سے کمزور ملک کو دبانے میں مصروف ہے ، پوری دنیا وطنیت پرستی کی وجہ سے عالم جنگ بن چکی ہے ۔

                    قومیت کی دوسری بنیاد رنگ ہے ،اس نظریہ نے بھی دنیا میں دیر پا اثرات مرتب کیے ہیں ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، جو کہ سب سے ذیادہ حقوق انسانی کا دعویدار ہے ،  میں کالوں کو امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ نہیں ملتا تھا، باراک اوبامہ امریکہ میں کالوں کا پہلا صدر تھا ۔ گویا کہ خود امریکہ میں ہی کالوں کے حقوق محفوظ نہیں ہیں۔

                    قومیت کی تیسری بنیاد نسل ہے ، اس کے اثرات یہ مرتب ہوئے کہ کوئی بھی نسل سے تعلق رکھنے والا اپنے سے نچلی نسل والے کو پسند نہیں کرتا ۔ عرب کی نسل سے ہونا ،بادشاہ کی نسل سے ہونا  فخر کا باعث سمجھا جاتا ہے ۔ حقوق کی فراہمی  اور سوشل ریسپیکٹ کی فراہمی میں بڑی نسل کو اہیمت دی جاتی ہے ۔

                    قومیت کی چوتھی اور آخری بنیاد زبان ہے ۔ کسی بھی زبان سے تعلق رکھنے والے لوگ  دوسری زبان والوں کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں۔

                قومیت کی ان چاروں بنیادوں کو پرکھنے کے بعد ہم اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ مغرب نے قومیت کی جو بنیادیں فراہم کی ہیں ، ان بنیادوں پہ انسانیت آپس میں لڑی اور  تقسیم کا شکار  ہوئی ہے ۔ ان بنیادوں نے دنیا پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں ۔

                اسلام نے ملت کا جو نظریہ دیا ہے اس کی بنیاد علاقہ ، رنگ ، نسل اور زبان نہیں بلکہ ایک خاص نظریہ ہے ۔اس' لا الہ  الا اللہ "کے نظریے کو  جو بھی قبول کرے گا ، اس کا علاقہ ، رنگ ، زبان اور نسل جو بھی ہو اس سے کوئی فرق نہیں  پڑتا ، اس نظریے کو ماننے والا ایک فرد اگر دنیا کے ایک  کونے پر ہو اور دوسرا فرد دوسرے کونے پر ہو تو وہ باہم ایک "ملت" ہیں ۔ چنانچہ عہد نبوی ﷺ میں ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جیسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشہ سے  آئے تھے ، صہیب رومی روم سے آئے تھے اور سلمان فارسی فارس سے آئے تھے  ، لیکن علاقہ، رنگ و نسل ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ  حجۃ الوداع کے موقع پہ فرمایا: کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری نہیں ۔اسی طرح نسلی تفاخر کا خاتمہ کرتے ہوءے نبی ﷺ نے فرمایا: کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی عربی کو کسی عجمی پر کوءی فضیلت نہیں ہے ۔

                چنانچہ ہمیں یہ بات سمجھ آئی کہ اسلام کا ملت کا تصور انسانیت کو متحد رکھتا ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اسلام قومیت کی بنیادوں کو کلی طور پہ مسترد کر دے بلکہ بلکہ اسلام ان چیزوں میں شدت  اور انتہاء پسندی  پیدا کرنے سے روکتا ہے ۔

 

Comments

Popular posts from this blog

عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات 94

  عورت کی ملازمت کے معاشرے اور خاندان پر اثرات از قلم:                                                                                                                                                                                                                                            ...

دین اسلام کا معاشی تصور 91

  دین اسلام کا معاشی تصور اسلام کوادیان عالم میں یہ خصوصی مقام حاصل ہے کہ یہ الہامی ادیان میں آخری کامل اور جامع دین ہے ۔اس میں دنیاوی اور روحانی اعمال کی تفریق کوختم کر کے معیشت اور اکل حلال کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کا نظام معیشت نہایت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یہی وجہ ہے کہ آج سامراجی اور سرمایہ داری نظام لڑکھڑا کر تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے اور خصوصا بینکاری عالمی طور پر کنگالی کا شکار ہورہی ہے ،اسلام کے معاشی اصولوں کے تصور پر قائم ادارے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ان کی مانگ میں گزشتہ بیس سالوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔اگر چہ ان اداروں کے بہت سے امور ایسے ہیں جن میں شرعی اصولوں سے فی الواقع مطابقت کے لئے اصلاح کی ضرورت ہے مگر پھر بھی ان کے اثاثے دیگر اداروں کے مقابلہ میں نہ صرف اضافہ پذیر ہیں بلکہ محفوظ ترین شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس عملی تجربہ کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ میں غیر مسلم بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہور ہے ہیں کہ اسلامی معاشی ادارے خواہ وہ بینک ہوں ، تکافل کے دارے ہوں یا صارف کمپنیاں ،سماجی معاشی اداروں سے زیادہ متحکم اور منافع بخش ہیں...

تصوف اور اسلام 69

تصوف اور اسلام از قلم :حافظ معیز احمد                 تصوف مسلمانوں کے ہاں تزکیہ نفس کا ادارہ ہے ، جس کا آغاز دوسری صدی ہجری میں ہوا ۔ تصوف سے مراد  نفس کی اصلاح ، اپنے آپ کو رزائل سے بچانا  اور احسان کی طرف لے کر جانا ہے ۔ تصوف کی  یہ صورت بلکل جائز ہے ، اس میں خرابی والی کوئی بات نہیں  ۔ اس تصوف کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے ۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تصوف میں انتہاء پسندی  بڑھتی گئی ، جس سے یہ تصوف خرافات کی آماجگاہ بن گیا ۔                 تصوف کے پہلے دور میں صوفی کتاب و سنت پہ چلنے والا اور اس کے احکامات کو ماننے والا ہوتا تھا ۔ جیسے جیسے تصوف میں خرافات بڑھی تو صوفی کتاب و سنت سے دور چلتے گئے ، حتی کہ موجودہ دور میں تو تصوف کی اصطلاح ایسے لوگوں پہ لاگو ہونے لگی ہے جنہیں کتاب و سنت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ جو اپنی خرافات اور بناوٹی کرامات میں گم ہوں ۔ اگر کوئی صوفی کچھ خرافات سے ہٹ عبادت کرنے کی ک...